سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

ذاتی اور خود ساختہ عبادتیں اور جنت میں جانے کی خوش فہمیاں

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

ہم روز مرہ کی زندگی میں بہت سے اعمال سر انجام دیتے ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق دنیاوی معاملات سے ہوتا ہے اور کچھ کا تعلق عبادات سے۔ دنیاوی معاملات میں ہم لوگ بہت ہوشیار ی سے قدم اٹھانا پسند کرتے ہیں۔ پڑھائی سے لے کر ہر شعبے میں خوب سے خوب تر کی جستجو کرتے ہیں اور ناکام نہ ہونے کی خاطر ہر قدم اٹھاتے ہیں۔ اس معاملے میں دوسروں کے تجربات سے سیکھتے ہیں، دوسروں کی غلطیوں کو نہ دہرانے سے بچتے ہیں اور غرضیکہ ہم صرف کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جب کہ عبادات کے معاملے میں ہم لوگ صرف اور صرف اپنے اپنے خیالات اور باپ دادائوں کے طریقوں کے مطابق عمل سر انجاام دیتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم نے اپنے رب کی عبادت ادا کردی۔ کبھی اتنی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ اس بات کو جانچیں کہ جو عمل ہم نے کیا ہے وہ صحیح بھی تھا یا نہیں؟

اس بات پر ذرا غور نہیں کرتے کہ جس طرح ہم اندھے ہوکر اپنے پرانے لوگوں کی باتوں پربغیر تصدیق کئے یقین کرلیتے ہیں ، اسی طرح اِ ن پرانے لوگوں نے بھی اپنے زمانے میں سنی سنائی باتوں پر یقین کرلیا ہوگا جس کے نتیجے میں ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا رہا ہے اور جہالت، ذاتی خیالات، سنی سنائی روایات،جھوٹی باتوں کو اپنا کر حقیقی عبادتوں کی شکل کو بگاڑ دیا گیا اور بغیر علم حاصل کئے، بغیر تصدیق کئے کیا ہم لوگوں نے کبھی ایک لمحے کیلئے بھی یہ سوچا ہے کہ جو عمل ہم روزانہ ، ماہانہ یا سالانہ عبادت کے طور پر ادا کرتے ہیں کیا وہ صحیح بھی ہے؟ کیا میرا عمل میرے رب کے بتائے ہوتے طریقوں، شرائطوں کے عین مطابق ہے؟

حضور نبی کریمﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ عقلمند وہ ہے جو موت سے پہلے اسکی تیاری کرلے اور آخرت کیلئے عمل کرے اور احمق وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے یہ امید رکھے کہ وہ اسے بخش دے گا۔

ہم لوگ صرف اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑے جارہے ہیں اور اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ بڑا رحیم و کریم ہے لہذا جیسے مرضی عمل کرتے رہو اس کا کام صرف معاف کرنا ہے اور اسی وجہ سے بقول ہمارے نبیﷺ ہمارے احمق ہونے میں کوئی شک نہیں۔


Home | About