سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

73فرقے اور حدیث کا تماشہ بنانے پر ناقابل انکار ثبوت

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

اسلام ایک مکمل دین ہے اور ہر وہ شخص جو حضرت محمدﷺ اور صحابہ کے طرز فکر و عمل کے مطابق (جتنا اس سے اس دور میں ہوسکے)اپنے اعمال رکھتا ہو وہ اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ اس دین کے ساتھ عجیب مذاق ہے کہ دین پر عمل کرنے کے بجائے اسکے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر فرقے والے نے ایک ہی حدیث رٹ لی ہے اور وہ اپنی صداقت کیلئے اسی حدیث کا راگ الاپتا نظر آتا ہے۔ میری امت کے تہتر(73)فرقے ہونگے اور صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا۔ اس وقت بدقسمتی سے اسلام میں موجود مشہور فرقے مثلاًبریلوی، دیوبندی، اہل حدیث،شیعہ وغیرہ کا دعوی ہے کہ صرف ان کاہی فرقہ جنتی ہے اور باقی تمام فرقے جہنمی ہیں اور ثبوت کے طور پر مندرجہ بالا حدیث پیش کی جاتی ہے۔آسان سی بات ہے کہ کوئی بھی خود کو غلط نہیں کہے گا اور اگر سب کی بات تسلیم کرلی جائے تو سارے ہی جہنمی ہوجائیں گے اور اگر سب کو جھوٹا قرار دے دیا جائے تو پھر حضورﷺکی بات کو کیا کہا جائے گا ؟ ایک لمحے کیلئے غورکیجئے!
اس سے پہلے کہ میں حدیث کی وضاحت کروں ایک بات غور سے دماغ میں بٹھالیجئے ۔پہلی بات یہ ہے کہ اللہ جھوٹ نہیں بولتا اور حضرت محمدﷺ کے جھوٹے ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
1) اللہ قرآن میں آپﷺ سے فرماتا ہے کہ آپﷺ کا ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر فرقے والا اپنے اپنے حصے سے خوش ہے۔
2) ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو ۔
3) حضورﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ بنی اسرائیل میں بہتر فرقے ہوئے اور میری امت میں تہتر فرقے ہونگے او ر ایک فرقہ جنتی ہوگا جو میرے اور صحابہ کے طریقے پر ہوگا باقی سب جہنمی ہونگے۔
ذرا غور فرمائیے گا کہ فرقہ کا مطلب گروہ ہوتا ہے جو ایک ایک فرد کے مجموعے کو کہا جاتا ہے۔ اگر صحابہ کرام جیسے اعمال والا ایک شخص پاکستان میں ہو، ایک شخص امریکہ میں ہو، ایک شخص سعودی عرب میں ہو تو ایسے افراد کے مجموعے کوبھی فرقہ/گروہ/جماعت وغیرہ کہا جائے گا یعنی ایسے افراد کا فرقہ جو اپنے اعمال میں صحابہ کے طریقے پر ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص جو اپنے اعمال میں حضورﷺ کی پیروی کرتا ہو اور آج کے کسی فرقے سے تعلق نہ رکھتا ہو وہ جہنمی ہو جائے۔
دوسری بات یہ کہ اگرحضورﷺ کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ صرف ایک ہی مخصوص فرقہ جنت میں جائے گا تو ایسا ہونا ہرگز ناممکن ہے کہ آپﷺ نے جان بوجھ کر اس فرقے کا نام چھپالیاہوتاکہ ا ن کی امت کے تمام فرقے آپس میں ایک دوسرے کو کافر، مشرک قرار دیں ،ایک دوسرے کو قتل کریں، جہنمی ہونے کے فتوی جاری کریں اور یہ سب آپس میں لڑکر مر جائیں۔اس طرح تو یہ ایک بہتان ہوگا کہ نعوذباللہ امت کو جان بوجھ کر فساد میں مبتلا کردیا گیا۔
1400سالوں سے آج تک ہر صدی میں کئی فرقے گزرے ہوں گے ۔صرف آج کل کے چند فرقے ہی جنتی یا جہنمی کیسے ہوگئے حالانکہ انکا وجود تو پہلے کبھی تھا ہی نہیں۔
تیسری بات یہ کہ اس حدیث سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرما دیا تھا ’اسی لئے فرقے بن گئے یا فرقے بننا لازمی ہیں ‘حالانکہ حضورﷺ نے صرف مستقبل کے بارے میں پہلے سے اطلاع دی تھی کہ ’تقریباًفلاں فرقے بن جائیں گے‘۔ حضور ﷺ نے یہ کہاں فرمایا ہے کہ’ میرے بعد 73فرقے بنا لینا؟‘۔ کسی بات کے حکم دینے او ر اطلاع دینے میں بہت واضح فرق ہوتا ہے۔ حضورﷺ نے اطلاع دی تھی،فرقے بنانے کا حکم نہیں اور اس اطلاع کا مقصد اس فتنے سے بچنے کیلئے آگاہ کرنا تھا ۔
چوتھی بات یہ کہ ہر فرقے کے بانی نے اپنا فرقہ بنایا اور پھر اپنے فرقے کو اسی حدیث سے ثابت کرنا شروع کردیاکہ وہی فرقہ جنتی ہے۔اور پھر اسکے لئے قرآن و حدیث سے اپنے حق میں دلائل نکالنے کا ایک کھیل شروع ہوگیااور یہ سب تماشہ آپ کو ہر فرقے میں ملے گا۔ خود کو حق ثابت کرنا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا۔
میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ کسی ایک مخصوص فرقے کی کوئی حقیقت نہیں ورنہ حضورﷺ اس فرقے کا نام لازمی بتا دیتے۔لہذا یہ بات سوچنے کی ہے کہ حضورﷺ نے نام کے بجائے صرف یہ کیوں فرمایا کہ جو میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا؟ اس سے بھی مزے کی بات یہ ہے کہ اللہ نے حضورﷺ سے فرمایا کہ دین میں ٹکڑے کرنے والوں سے آپﷺ کا کوئی تعلق نہیں۔ اور اللہ نے مسلمانوں سے بھی کہہ دیا کہ آپس میں تفرقہ نہ کرو اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کو مظبوطی سے تھام لو۔
اب اگر اللہ تفرقہ نہیں چاہتا تو پھر حقیقت کیا ہے؟ دیکھئے بات صرف اتنی سی ہے کہ اللہ کو دین اسلام بہت پسند ہے اور جو انسان بھی خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو بشرطیکہ اسکے بنیادی عقائد (مثلاً اللہ ، حضرت محمدﷺ، تمام فرشتے، تمام الہامی کتابیں،موت کے بعد زندگی، تقدیر)درست ہوں اوروہ اسلام کے مطابق عمل کرتا ہو تو اسکا شمار اسی فرقے/گروہ/جماعت میں ہوگا جو صحابہ کی ہے اور امید ہے کہ وہ نجات پاجائے (یہ بات واضح کردوں کہ اب عام انسان ولی کا درجہ حاصل کرسکتا ہے ، صحابی نہیںبن سکتا )۔
میرے پاس ایک ناقابل انکار ثبوت ہے جو کسی بھی عقل و شعور استعمال کرنے والےانسان کیلئے کافی ہے ۔ میری تحقیق کے مطابق بریلوی، دیوبندی فرقے میں سے تروتازہ لاشوں کا ثبوت ملا ہے۔ اگر مزید اسلامی فرقوں کے انتقال شدہ لوگوں کے قبرستانوں میں جاکرتحقیق کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ اور بھی محفوظ لاشوں کے ثبوت ملیں گے۔فی الحال صرف ان دو فرقوں کی نسبت مثال سمجھانے کے لیے بیان کرتا ہوں۔
اگر صرف بریلوی جماعت جنتی ہے تو انکے فرقے کے فاسق و فاجر مسلمانوں کی لاشیں گل سٹر کر ختم کیو ں ہوگئیں؟ اگر صرف دیوبندی جماعت جنتی ہے تو انکے فرقے کے فاسق و فاجر مسلمانوں کی لاشیں گل سٹر کر ختم کیو ں ہوگئیں؟اگر ایک فرقہ جنتی ہے تو اس فرقے کے تمام لوگ جنتی ہونے چاہئیں یا اگر صرف نیکو کار ہی جنتی ہونگے تو پھر باقی فرقے میں سے نیک مسلمانوں کی لاشیں کیوں تروتازہ ہیں؟حالانکہ فرقی نظر سے دوسرے فرقہ ہی جہنمی ہے تو بھلا جہنمی فرقے میں لاشیں کہاں سے تروتازہ رہ گئیں؟ اسی طرح باقی فرقوں کو بھی قیاس کر لیں۔
لہذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ کے نزدیک معیار صرف دین اسلام ہے ۔ اگر کوئی مخصوص فرقہ ہوتا تو اللہ صرف کسی ایک فرقے والوں کی تمام لاشوں کو محفوظ کرتا۔ اور لازمی بات ہے کہ جو انسان جنتی ہوگا اسکی لاش گل سٹر کر کیسے ختم ہوسکتی ہے؟ کیونکہ جو اللہ کی راہ میں مرتا ہے وہ تو زندہ ہے اور اسے رزق دیا جاتا ہے اسی وجہ سے تو ان کا جسم محفوظ ہوتا ہے اور جسم میں تازہ خون ہوتا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس دنیا سے انتقال ہوجانے کی وجہ سے زندہ انسان کی طرح حرکت نہیں کرسکتا اور اسکے علاوہ کوئی فرق نہیں ہوتا ۔
اس لئے ہمیں ہوش میں آنا چاہئے کہ حضورﷺ کی امت کو بکھیرنے کے بجائے انہیں حقیقی اسلام پر عمل کرنے دیں جیسا صحابہ کرام کیا کرتے تھے تاکہ سب آپس میں متحد ہوں۔ اسکا واضح اور جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ آج ہزاروں علماء کرام، لاکھوں کتابوں، لاکھوں مضامین، ہزاروں ٹی وی پروگرامز اور دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں مساجد میں ہر طرح کے بیانات ہونے کے باوجود صورت حال کچھ یہ ہے کہ لوگ اسلام سے اتنا ہی دور ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اتنے وسائل نہ ہونے کے باوجود صحابہ کرام نے اسلام کو پھیلادیا تھا مگر اب سب الٹا ہی نظر آتا ہے۔ کیونکہ ہر فرقہ والا دوسرے فرقہ والے کو جہنمی یا باطل سمجھ کر لوگوں کو اپنے فرقے میں داخل کرنا چاہتا ہے لہذا اسلام کی طرف دعوت اور کائناتی سوچ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اپنے خول میں بند ہر کسی نے خود کو جنتی ہونے کا سرٹیفیکٹ دے رکھا ہے اور اپنی ساری کوششیں اپنے فرقے پر استعمال کی جاتی ہیں، اللہ کے دین اسلام اور حضورﷺ کی امت کیلئے نہیں۔
اسی سوچ کے حامل لوگوں نے اسلام پر اجارہ داری قائم رکھنے کی سوچ رکھی ہے کہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر چل رہا ہو اسے زبردستی فرقے میں گھسیٹ ڈالو حالانکہ اللہ نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کی مثال دے کر قرآن میں وضاحت کردی ہے پھر بھی اپنی منطق اور عقلوں سے دین اسلام کو تماشہ بناکر رکھا ہوا ہے ۔ جن عقائد کے ساتھ صحابہ کرام جنت میں گئے انہی عقائد اور طریقوں سے چلنے والا مسلمان کسی فرقے کا محتاج نہیں۔اسلام کی حقیقت سے نا آشنا لوگ اس روشنی کو فرقے کے کنویں میں بند نہیں کرسکتے۔ بہتر تہتر سے کھیل کھیل کر پوری امت تقسیم کرکے ایک دوسرے کو کافر قرار دے ڈالا ہے۔
اس پر تھوڑی سی اور وضاحت کردوں تاکہ کسی شبہ کی گنجائش نہ رہے۔میری رائے کے مطابق ایک مخصوص عقائد و اعمال کے انسانوں کا طبقہ گروپ یا فرقہ کہلاتا ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بھی مسلمان صحیح عقائد و اعمال رکھتے ہونگے وہی اللہ کے نزدیک کامیاب مسلمان ہیں(دوسری نظر سے دیکھا جائے تو ایسے تمام لوگوں کا مجموعہ بھی سچے مسلمانوں کا گروپ ہی ہوا) اور جنت میں جانے کے حقدار ہیں ورنہ ہر فرقے میں لاکھوں بے نمازی، جھوٹے ،مکار، دھوکے باز وغیرہ قسم کے لوگ ہوتے ہیں اگر صرف فرقہ ہی جنتی ہوتا پھر لازمی ہے کہ سب کے سب جنت میں جائیں اور اللہ کا عدل و انصاف باطل ہوجائے۔
ایک مسلمان جس کے بنیادی عقائد صحیح ہوں اور وہ بغیر کسی فرقے سے تعلق رکھے،اللہ کے دین اسلام کے فرائض و واجبات نیز سنت موکدہ پر عمل کرتا ہو، اس بہتر تہتر کے مطابق چونکہ وہ کسی فرقے سے وابستہ نہیں ہوا اس لئے سیدھا جہنمی ہوگیا؟یہ بات عقل سے بالاتر ہے۔ کسی بھی مخلص مسلمان کیلئے اللہ بہت قدر شناس ہے اس لئے فرقہ پرستوں کے فتنے سے بچئے اورحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام پرعمل کی کوشش کیجئے۔
واللہ اعلم باالصواب۔


Home | About