سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

اکیسوی صدی اور مسلمانوں کی ترقی

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

میرے ذاتی تجربہ اور غورفکر کے مطابق یہ بات تو واضح ہے کہ قرآن اللہ کا ایسا کلام ہے جوبنی نوع انسان کو عبادت کے علاوہ کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے اور ایک پڑھا لکھا انسان مثلاً سائنسدان، انجینئر، ڈاکٹر وغیرہ جب اس کا کھلے دل و دماغ سے مطالعہ کرتا ہے تو اسے اپنے علم کے مطابق اِ س قرآن کے سمندر سے موتی مل جاتے ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اسے محض مذہبی کتاب کی حیثیت دیتی ہے۔ اوریہ قرآن مسلمانوں کے گھروں کے کونوں میں سالوں پڑا گرد آلود رہتا ہے۔ اول تو کوئی اسے سمجھنے کیلئے کھولتا ہی نہیں ہے ۔ جو کھولتا ہے وہ بھی اپنے فرقے کے موافق آیات ڈھونڈتا ہے تاکہ انہیں گولی کی طرح فٹ کردیا جائے اور اپنے ٹارگٹ پر فائر کیا جائے۔نوجوان نسل میں اکثریت کا تو دور تک قرآن سے دوستی کا تعلق ہی نہیں ہوسکا۔ہمارے بوڑھے مردوخواتین بھی اسے ایک ثواب کی کتاب،کسی کے مرنے پر قرآن خوانی کی کتاب، کسی تقریب کیلئے باعث برکت،مشکلات کیلئے وظائف کی کتاب اور اسی طرح اپنے اپنے مواقع کے مطابق اسے وقتی استعمال کرلیتے ہیں۔

مجال ہے کہ کبھی قرآن کو ہدایت لینے کی غرض سے کھولیں، اللہ سے باتیں کرنے کیلئے کھولیں، دلوں کے زنگ کو دور کرنے کیلئے کھولیں، ریسرچ کرنے کیلئے کھولیں، کائنات کے اسرار جاننے کیلئے کھولیں۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم ہوئے ذلیل و خوار تارک قرآن ہوکر

البتہ مسلمانوں نے کچھ معاملات میں بہت زیادہ ترقی کرلی ہے۔سب سے زیادہ ترقی یافتہ شعبہ کفر ہے جس میں ایک دوسرے کو کافر و جہنمی قرار دینانہایت معمولی بات ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ترقی یافتہ شعبہ جات جھوٹ، غیبت،بے حیائی، مکاری، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، امانت میں خیانت، قتل و غارت، ،گالیاں دینا، فحش باتیں، لڑکیوں کے چکر میں موبائلزاور انٹرنیٹ کا استعمال وغیرہ۔ غرض یہ کہ جتنی معاشرتی و اخلاقی برائیوں کی فہرست ہے وہ مسلمانوں میں باآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔

میرے خیالات سے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے لیکن ذرا مسلمانوں کی تحقیق و ریسرچ کی انتہا دیکھئے:

دوسری جانب وہ غیرمسلم جنہیں ہم گالیا ں دیتے ہیں انکی تحقیق و ریسرچ دیکھئے:

غیرمسلموں کی جدید سائنس جس بنیاد پر کھڑی ہے اس کو تعمیر ہمارے مسلم سائنسدانوں نے ہی کیا تھا لیکن ہمارے علوم چوری کرکے غیرمسلموں نے ترقی کرلی اور ہم مسلمانوں کو بہت چالاکی سے فضولیات میں الجھاکر مصروف کردیا ۔اس سے اندازہ لگالیں کہ مسلمان ہونے کے باوجود ہم کیوں دنیا میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔


Home | About