سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

اللہ سب کچھ خود نہیں کرے گا

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

پیدا ہونے سے لے کر کئی سالوں تک میں حیران ہوتا تھا کہ اللہ مسلمانوں کو ذلت سے نکالنے کے لیے کچھ کرتا کیوں نہیں ہے؟ آخر مسئلہ کیا ہے۔ قصور عوام کا ہے، حکمرانوں کا ہے یا علما کا ہے؟ اس قوم کیلئے افسوس کا مقام ہے کہ ہم مسلمانوں نے عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے سب کچھ صرف منہ کی باتوں، وقت برباد کرنے والے مباحثوں، ہونٹ ہلا کر دعائوں ، گھر میں بیٹھ کر فیس بک پر اظہار رائے کرنے اور فقط روایتی الفاظوں کے کچھ نہیں کرنا۔
گزشتہ 70سالوں سے اس ملک ہی کیا، ساری دنیا کے مسلمان گھروں، مسجدوں سے لے کر کعبہ جاکر بھی دعائیں کر رہے ہیں ، ہزاروں علمائے کرام ہر سال تیار ہور ہے ہیں، کروڑوں طالب علم دین پڑھ رہے ہیں، کروڑوں صفحات لکھ کر کالے کردئیے گئے، لاکھوں لوگ تبلیغ کرتے ہیں مگر نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان ذلیل و خوار ہیں اور مسلم دنیا کو سانپ سونگھ گیا ہے۔خود کچھ کرنا نہیں ہے، جو کرتا ہے اس پر تنقید کرنا ہے اور جومسائل کا حل دے اسکا ساتھ نہیں دینا ہے۔
سارا تکیہ صرف دعائوں پر ہے مثلاً:
1)کاش کوئی حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمرفاروق ،شیخ عبدر القادر جیلانی یا خواجہ معین الدین چشتی جیسا آجائے= مگروہ تو پانچ وقت نماز کے پابند، سچ بولنے والے، وعدہ پورا کرنے والے، کسی مسلمان کو زبان یا ہاتھ سے تکلیف نہ دینے والے تھے ۔ ان جیسا تب آئے گا نا جب مسلمانوںمیں کوئی عمل کرے گا آج توکم از کم مذکورہ چار باتوں پر ہی عمل کرکے کو ئی ثابت قدمی دکھادے تو بہت بڑی بات ہے۔ اللہ آسمان سے انسانوں کو نازل نہیں کرتا۔ وہ لوگ بھی انسان ہی تھے۔ باتیں کرنے کے بجائے ان جیسا بننے کی کوشش کی جائے گی تب ہی ان جیسا کوئی ہوگا۔ ہمارے ہیروز کون ہیں یہ سب ہی جانتے ہیں ۔
2)اللہ مسلمانوں کی اور انکے جان ، مال ، عزت کی حفاظت فرمائے=مسلمانوں کے بچے ، بوڑھے قتل ہورہے ہیں، عورتوں کی عزتیں بے آبرو کی جارہی ہیں، ذلت و رسوائی ہو رہی ہے کیونکہ ہم لوگوں نے اللہ و رسول ﷺ سے جنگ کر رکھی ہے۔ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اللہ جھوٹوںکو گمراہ رکھتا ہے۔
اللہ مرنے والے کو بچانے خود نہیں آتا،اللہ قتل کرنے والے کا ہاتھ نہیں روکتا،اللہ بھوکوں کو آسمان سے من و سلویٰ نازل نہیں کرتا۔اللہ پوری قدرت رکھتا ہے اور جو چاہے کرے مگر اسکے اپنے کچھ اصول و قوانین ہیں۔
وہ یہ سب کیوںکرے؟ تم انسانوں کو تخلیق صرف کھیلنے کودنے اور باتیں کرنے کیلئے کیا ہے؟ اللہ کو کیا بولتے ہو ۔ اللہ نے کسی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا؟اللہ نے کوئی وعدہ کرلیا ہے ؟
خود گناہوں میں غر ق رہو، اسلام کی تعلیمات پر عمل نہ کرکے دین کا تماشہ بنائو، قرآن کو کمروں اور الماریوں میں گرد آلود ہونے دو، صبح سے رات سونے تک نمازوں سے بے پرواہ ہر کام میں مصروف رہو، بینکوں میںپرافٹ کے نام پر سود لو، ملاوٹ کرکے انسانوں پر ظلم کرو،ناپ تول میں کمی کرو ، حکمرانوں اور لوگوں کو گالیاں دو مگر خود اچھے نہ بنو۔ اور جب مسلمانوں پر ظلم ہوں تو کہتے ہو کہ یا اللہ رحم کر، یا اللہ مدد کر۔ اللہ تو خود تم لوگوں سے سے یہی چاہتا ہے کہ زمین پر نائب ہو اور بھیجا ہے تو تم خود سب کرو۔مظلوموں کی مدد کرو، انصاف قائم کرو، فساد نہ پھیلائو۔ یعنی اللہ چاہتا ہے کہ ہم سب کچھ کریں اور ہم اپنی تمام کوششیں اپنے کاروبار، گھروں اور نمودو نمائش پر لگاکر دوسروں کی ذمہ داری اللہ پر تھونپ دیتے ہیں اور قطعی شرم نہیں آتی یا کبھی سوچتے نہیں کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟
اگر اللہ ہی کو سب کچھ خود ہی کرنا ہوتا تو زمین پر انسانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فرشتے آکر سب کچھ خود ہی کرلیتے ۔اللہ کا قانون ہے۔ اگر زمین پر انسان رہتے ہیں تو اللہ نے انسانوں میں ہی نبی بنائے۔ وہ تو خود قرآن میں بتاتا ہے کہ اگر زمین پر فرشتے آباد ہوتے تو وہ فرشتے نبی بناکر بھیجتا۔لہذا اگر اللہ ہی سے سب کچھ کروانا ہے تو پھر بیٹھے تماشہ دیکھتے رہو، دعائوں میں وقت برباد کرو، ذلیل و خوار ہوتے رہو۔اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود ہی اپنے آپکو بدلنا نہ چاہے۔
جب تم خود کچھ کرو گے تب اللہ مدد کرتا ہے، جب محنت کروگے تب اللہ دیتا ہے، جب عمل کرو گے تب اللہ استقامت دیتا ہے، جب ہدایت کی طلب رکھو گے تب اللہ اگر چاہے گا تو ہدایت دے گا۔ اللہ کے قانون ہیں اور تم اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی ہرگز نہیں پائو گے۔
ایسا نہیں ہوسکتا کہ انسان شادی نہ کرے اور اللہ سے کہے کہ مجھے اولا د دے ،ایسا انسان احمق ہے۔ اسی طرح ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنی کوشش، جدو جہد اور عمل نہ کریں اور اللہ سے محض دعائیں کریں کہ وہی سب کچھ کردے۔امتحان میں جائے بغیر گھر بیٹھ کر پاس ہونے کی دعا فضول ہے۔ عمل جاری رکھاجائے اور دعا کی جائے تب نتائج کی امید کرنا عقلمندی ہے۔
بغیر عمل کئے دعا ان باتوں میں کی جاسکتی ہے جہاں آپ کی پہنچ نہ ہو یا عمل ہرگز ممکن نہ ہو کیونکہ جب تک عمل کرنا ممکن ہے تو عمل کرنا ضروری ہے مثلاً روزی کیلئے محنت کرنا آپ کا کام ہے مگر اس میں برکت دینا یا مطلوبہ روزگار دینا اللہ کی مرضی ہے۔ کھیتوں میں بیج ڈالنا کسان کا کام ہے مگر اس کو اگانا اللہ کا کام ہے۔ انسان کسب کرتا ہے، اللہ تخلیق کرتا ہے۔
میری اس تحریر کو پڑھ کر عام مضامین کی طرح بھلادینا بھی آپکا کام ہوگا اور چند منٹ اپنی ذات کی گندگی اور گناہ کی حالت کو تبدیل کرکے ایک سچا مسلمان بننے کے بارے میں غور و فکر کرنا بھی آپ کا کام ہے، اللہ ہدایت دے گامگر طالب ہدایت اس کی جانب اپنا رخ تو کرے ورنہ اللہ بے نیاز حمد و ثناء ہے اور جو اس سے رخ موڑ لیتا ہے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن اس کی زندگی کبھی نہ کبھی ضرور عذاب بن جاتی ہے اور اگر وہ پلٹ آئے تو بہتر اور نہ پلٹے تو سسکتا بلکتا تڑپتا رہتا ہے اور کوئی مخلوق اسے بچانہیں پاتی۔


Home | About