سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

جنت الفردوس میں جانے کا تکبر

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

ایک کمینہ، نااہل، نکما اور نافرمان طالب علم اگراپنے استاد سے کہے کہ مجھے امتحان میں پاس کردینا تو یہ بے غیرتی کہلائے گی اور اگر ٹاپ پوزیشن ٹائٹل لینے کی ڈیمانڈ کرے تو یہ بے شرمی اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ایسے طالب علم کو چاہیے تھا کہ استاد سے معافی مانگتا اور عاجزی سے صرف اتنی درخواست کرتا کہ برائے مہربانی مجھے امتحان میں فیل مت کیجئے گا ۔ ماضی میں جو کچھ ہوا میں اس کے ازالے کے لیے اب سے پڑھنے کی پوری کوشش کروں گا (اس کے بعد استاد کی مرضی کہ اسے معاف کرے یا پاس کردے)
اسی طرح ایک مسلمان جس نے اللہ کا کہنا نہ مانا، اپنی من مانی زندگی گزاری، نافرمانی میں رہا اور اس کے حبیب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے چھوڑ ے رکھا اور اللہ سے یہ مطالبہ کرے کہ مجھے جنت دینا یا جنت میں اعلی ترین مقام عطاکرنا۔ یہ انتہا درجہ کا تکبر اور بے غیرتی ہے۔اس مسلمان کو چاہے تھا کہ اللہ سے انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ درخواست کرتا کہ اے اللہ مجھے معاف کردے اور اپنے عذاب میں گرفتار نہ کرنا (پھر اللہ بے شک اسے معاف کردے یا جنت دے، یا جنت کا کوئی بھی درجہ دے۔ ایسے مسلمان کو تو شکر کرنا چاہے کہ جو ملا بہتر ملا۔ اپنے اعمال تو ہرگز جنت میں داخل کرنے والے نہ تھے)
اللہ سے بے شک ہم جو مرضی دعائیں مانگ لیں مگر نافرمان ہوتے ہوئے اتنے تکبرانہ طور پر جنت الفردوس مانگنا اور اعلی ترین درجات مانگنا، اپنی عاجزی کا اقرار نہ کرنا، انتہائی افسوس کی بات ہے۔


Home | About