سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

اکثر لوگ مل کر ایک مسئلہ حل کیوں نہیں کررہے

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

ایک محلے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوگیااور اسے حل کرنے کیلئے ہر گھر والے نے اپنا ایک گروپ بنالیا ۔ اس طرح مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا کیونکہ گروپ کے سربراہ کے ساری کوشش اپنے گروپ کو سنبھالنے اور اپنے نام کا ڈنکا بجوانے پر صرف ہونے لگی۔اگر محلے کے تمام افراد کر اتحاد کرکے ایک مسلئے کو حل کرنے کی کوشش کرتے تو یقینا کامیاب ہوجاتے ۔اگر کسی میں اخلاص ہوتا اور وہ اللہ کی رضا کیلئے کوشش کرتا تو یقینا ایک دوسرے سے انتشار کے بجائے ایک مقصد پر اتفاق ہوجاتا۔
اسی طرح آج مسلمانوں کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے جن کی ایک طویل فہرست ہے۔ جس کا دل چاہتا ہے ایک جماعت تیار کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر جو کچھ ہوتا ہے اس کی مثال میں اوپر پیش کرچکا۔اس لیے مسلمانوں کے اہم مسائل حل نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ کسی اہم مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ آپس کے مسائل کی وجہ سے نفرت ، دشمنی و عداوت میں ایک دوسرے کو اکھاڑ رہے ہیں۔ ان سب کے پیچھے نفسانی خواہش کام کررہی ہے۔جو بھی علیحدہ سے گروپ بندی کرتا ہے وہ اپنی چودہراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کی شہرت ہو، لوگ اسے جانیں اور اس کے زیر اثر رہ کر کام کریں۔
آپ نے شاید پڑھا ہوگا کہ علما علما سے حسد کرتے ہیں۔ایسا صرف علما کے ساتھ نہیں بلکہ ہر شعبہ میں انسان دوسرے انسان سے حسد و جلن میں مبتلا ہوجاتا ہے جو اس کی فیلڈ سے تعلق رکھتا ہے ۔ مثال کے طور پر مائیکل جیکسن ایک مشہور ڈانسرتھا لیکن اگر آپ کو ڈانس کا شوق نہ ہو تو آپ کے لیے مائکل جیکسن کی ویلیو زیرو کے برابر ہے۔آپ کو مائیکل جیکسن سے کبھی حسد، جلن اور عداوت پیدا نہ ہوگی۔ اس کی وجہ؟
جب آپ کو ڈانس سے رغبت نہیں تو آپ اس میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی کوشش ہی نہیں کریں گے ۔ نہ آپ میں ڈانس کی دنیا میں نام پیدا کرنے کا شوق پیدا ہوگا، نہ ہی اپنا گروپ بناکر اس میں واہ واہ سمیٹنے کا جذبہ اور دیگر تمام خرافات کا وجود ہی نہیں رہے گا۔لیکن جس دن آپ کو ڈانس سے رغبت پیدا ہوئی اور آپ اس میں محنت کرنا شروع کریں گے تو وہی مائیکل جیکسن جو آپ کے لیے بے معنی تھا وہ آپ کے لیے برا بن جائے گا۔ کیونکہ جب آپ اپنے آپ کو اس کے مقابلے پر نیچے دیکھیں گے تو آپ کے نفس کو یہ بات ہضم نہ ہوگی کہ کوئی اس سے اوپر ہے ، شہرت کا حامل ہے اور لوگوں میں واہ واہ سمیٹ رہا ہے۔آپ کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی طرح مائیکل جیکسن کی طرح آپ بھی مشہور ہوجائیں اور لوگ آپ کو جانیں۔ آپ کے فین ہوں۔ آپ کو داد ملے۔ آپ کی باتوں کو سنا جائے ۔ مانا جائے۔ آپ کے ہنر پر تنقید کرنے والا آپ کو زہر لگے گا۔ آپ اس سے نفرت کریں گے۔
اس مثال کو آپ کسی بھی فیلڈ کے مطابق فٹ کرکے سمجھ جائیں کہ اکثر لوگ کیوں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے اور شخصیت پرستی کیوں کروائی جارہی ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ لوگ اپنے پیچھے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر انہیں خاص گھاس کیوں نہیں ڈالتے۔ اپنی فیلڈ کے دوسرے لوگوں پر تنقید کیوں کرتے ہیں اور دشمنی میں آگے تک کیوں چلے جاتے ہیں۔ اللہ جسے بچائے وہی بچ سکتا ہے ورنہ کتنے ہی لوگ اس کھائی میں گر کر ہلاکت میں پڑگئے۔
میں زندگی میں ذاتی طور پر اس تجربہ سے گزرچکا تب مجھے اس کی گہرائی سمجھ آئی کہ اکثر لوگ مسلم ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کیوں اصل کام نہیں کررہے اور اپنی اپنی چودہراہٹ قائم رکھی جارہی ہے ۔ میرے تجربات کے مطابق جتنے بھی ملے ان سب میں ایک بات مشرک تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا نام مشہور ہو اور جیسا وہ سوچتے ہیں ویسے ہی لوگ ان کے حکم پر چلیں۔
یہی وجہ ہے کہ معاشرہ تتر بتر ہوچکا ہے اور اکثر لوگ ابلیس کی غلامی کے زیر اثر کام کررہے ہیں۔ان کے دل و دماغ پر شیطان قابض ہوچکا ہے اور وہ دنیا کی محبت کے سبب اندھے، بہرے اور گونگے ہوچکے ہیں۔


Home | About