سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

یہ مذہب کے کٹھ پتلی نما پیروکار اور انہیں چلانے والے

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

کٹھ پتلی تماشہ میں تماشیوں کی نظر اس پتلے پرہوتی ہے جو تماشہ کررہا ہوتا ہے۔ جو غور و فکر کرنے والے ہوتے ہیں وہ اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ یہ کٹھ پتلیاں دراصل اس ڈور کے سہارے ہیںجو اس سے بندھی ہوئی ہے۔ ہوشیار اور حقیقت سے باخبر انسان اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ اصل میں یہ سب کٹھ پتلیاں ان کے سہارے ہیں جو انہیں ڈور کے ذریعے استعمال کررہے ہیں۔
میرے نزدیک مذہبی پیروکاروں کی مثال کٹھ پتلیوں جیسی ہے جو اپنے مذہب کی ڈور میں بندھے ہوئے ہیں اور اس ڈور کا سرا انکے مذہبی پیشوائوں کے ہاتھ میں ہے اور یہ مذہبی پیشوا انہیں استعمال کررہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف جنگ، قتل و غارت ، نفرت، اشتعال انگیزی، فوج، ہتھیار، بم، میزائل وغیرہ حقیقت میں مذہبی پیشوائوں کی وجہ سے ہے۔یہ پیروکار حقیقت مہیں لڑ نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے کے خلاف لڑوائے جارہے ہیں۔ہر مذہب کے پیشوا کے ہاتھ میں اس مذہب کے اربوں پیروکار ہیں۔
دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی مذہب اور عقیدے کاپیروکار ہے خواہ وہ کسی بھی روپ میں ہو مثلاً حکمران، فوجی، پولیس، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، مذہبی پیشوا، روحانی پیشوا، جادوگر، ٹی وی اینکر، کالم نگار، دانشور ، مصنف، ماں باپ ، استاد وغیرہ ۔
تماشہ دیکھنے والوں کے سامنے پیروکاروں کی جنگ اور لڑائیاں ہوتی ہیں مگر انکی نظر مذہب کی ڈور اور اس کے سرے پر بیٹھے مذہبی پیشوائوں پرنہیں جو اس ڈور کے ذریعے اپنے مذہب کے پیروکاروں کو جیسے چاہے حرکت دیتے ہیں۔
لہذا دنیا کے انسانوں کو چاہے کہ اپنے اپنے مذہب کے مشہور اور ماہر ترین مذہبی پیشوائوں سے پوچھیں کہ ان میں سے کون ہے جو مردوں کو زندہ کرکے دکھائے گا، چاند کے ٹکڑے کرے گا، بنا کیمیکل بھڑکتی آگ میں جائے گا تاکہ مذہبی پیشوائوں کے پیروکار بھی اس حقیقت کو دیکھ سکیں اور سچ قبول کرسکیں کہ کس مذہب کا خدا سچا ہے۔


Home | About