سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

تصوف کی ابتداء اور انتہا

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

تصوف کی ابتداء الف کے ادب سے شروع ہوکر ی کے یقین پر ہوتا ہے۔اس کی حقیقت اسی طرح ملتی ہے جس طرح ایک کنوارے کو شادی کرکے شادی شدہ ہونے کی کیفیات اور حقیقت ملتی ہے۔اس کی معمولی کیفیت سمجھنی ہو تو عشق مجازی سے سیکھو کہ ایک عاشق کی کیفیات ایک عام انسان سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔
یہ آج کل کے مولوی، قاری، عالم یا مفتی اگرتصوف کے انکاری بن جائیں تو ان کے تھوکنے سے چاند کو کچھ نہیں ہوگا الٹا تھوک انہی کے منہ پر گرے گا۔ایسے جاہل ابھی امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ جیسوں کی جوتی برابر بھی نہیں۔ان کی جہالت بھری باتیں یہ ثابت کرتی ہیںایسے مسلمانوں کوتصوف کی ابتداء کی ہوا بھی نہیں لگی ہے۔
انہیں چاہئے کہ کتابیں بند کرکے رکھد یں۔تصوف کتابی علم ، چلوں اور مراقبوں کا نام نہیں۔یہ قرآن و سنت کے تابع رہ کر ادب کے میدان میں اتر کر حقیقت تک پہنچنا ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کیلئے حضرت موسی علیہ السلام جیسے نبی کوحضرت خضر علیہ السلام کے پاس جانا پڑا اور پھر وہ ان کے ساتھ صبر نہ کرسکے۔
حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبار ک میں تصوف ایک حقیقت تھی بغیر نام کے اور اب تصوف ایک نام ہے بغیر حقیقت کے۔لہذا تصوف کے خلاف بکواس کرنے والے اوراس کا انکار کرنے والے اکثر مسلمان وہی ہوتے ہیں جو پیدائشی مسلمان ہوتے ہیں۔ جن کے دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں جیسے پانی کے بغیر ایک خالی گلاس۔ان کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔
جاہل مسلمان جنہوں نے کبھی زندگی میں دین کا بنیادی علم بھی حاصل نہیں کیا ہوتا۔
قاری، عالم یا مفتی جنہوں نے قرآن و حدیث صرف پڑھنے کی حد تک سمجھا مگر کبھی اس پر عمل نہیں کیا جس کا اثر انکے کردار پر نظر آجاتا ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں۔
تصوف جاننے کے جاہل دعویدار جن کے کردار قرآن و سنت سے میل نہیں کھاتے۔ جو شریعت کے خلاف عمل کرتے ہیں۔البتہ اپنی محنت کے باعث حاصل ہونے والے کچھ منظروں، مراقبوں، چلوں وغیرہ کے ذریعے اگرانہیں کچھ کیفیات مل جاتی ہیں تو اسے ہی حقیقت سمجھ کر زندگی بھر گمراہ رہتے ہیں۔
مولویوں ، قاریوں، عالموں اور مفتیوں نے صرف قرآن کو الفاظ کی حد تک پڑھا ہے اور اپنی ذات میں کبھی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کردار اتارا ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان جاہلوں کو زندگی بھر قرآن کی حقیقت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ان کی مثال اس جاہل انسان جیسی ہے جس نے ساری زندگی میڈیکل کی صرف کتابیں ہی پڑھی ہیں مگر عملی طور پر کوئی تجربہ حاصل نہیں کیا ۔اس لئے خود بھی یقین سے عاری ہیں اور اپنے پیروکاروںکو بھی یقین دلانے سے قاصر رہتے ہیں۔


Home | About