سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

سیدھا راستہ آج بھی ہے مگر کوئی ہے جو اس پر چلے؟؟؟

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

ایک سیدھا راستہ وہ ہوتا ہے جو اپنی راہ کے مسافر کو منزل تک پہنچادیتا ہے ۔یہ مسافر پر انحصار کرتا ہے کہ اسکے سفر کرنے کی رفتار کتنی تیز ہے مگر بالآخر وہ منزل تک پہنچے گا۔
اسی طرح خالق کائنات یعنی اللہ تک پہنچنے کا ایک ہی سیدھا راستہ ہے جس پر شیطان قسم کھاکر بیٹھا ہے کہ کسی کو ادھر نہیں آنے دے گا باقی جس راستے پر مسلمان جانا چاہے چلا جائے۔
بالکل اسی طرح اللہ نے اپنی طرف آنے والے سیدھے راستے کی واضح نشاندہی کردی تھی اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ تک پہنچنے کا راستہ بتا دیا تھا۔
مسلمانوں کی اکثریت بچپن سے بڑھاپے تک رسمی عبادت کرتی ہے اور یہ تعداد بھی آٹے میں نمک برابر ہے۔یہ تمام ظاہری عبادتوں والے کبھی اللہ تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انہوں سے دین صرف رٹا لگانے اور رسم پوری کرنے کی حد تک سمجھ رکھا ہے ۔
۱) اسی وجہ سے نماز پڑھنا انہیں برائی و فحاشی سے نہیں روکتا جبکہ اللہ کی بات سچی ہے کہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
۲) بھوکا پیاسا رہ کر روزہ رکھنا انہیں پرہیز گار نہیں بناتا جبکہ اللہ کی بات سچی ہے کہ روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ مسلمان پرہیز گار بن جائیں۔نیز حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے واضح بتادیا تھا کہ جو مسلمان روزہ رکھ کر جھوٹ و دیگر حرام کام نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواہ نہیں۔
۳) زکوٰۃ والے تو برائے نام ہی رہ گئے کیونکہ جس کے پاس مال ہوگا وہی زکوۃ دے گا اور اس میں بھی ڈنڈی مارتے ہیں۔
۴) حج کیلئے لاکھوں روپیہ چاہئے اور حج کیلئے پیسہ رکھنے والے اکثر مسلمان اپنی زندگی میں جھوٹے، چور، مکار، فریبی، حق تلف کرنے والے ہوتے ہیں جن کا مال حرام ہوتا ہے ۔ اس لئے انہیں حج کے بعد بھی زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوتا البتہ پہلے سے زیادہ حرام خور اور بدکردار بن جاتے ہیں۔ا س کی ایک وجہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کا نفس خود کو بہت پاکباز اور اعلی درجہ کا سمجھنا شروع کردیتا ہے کہ تم نے حج کرلیا ہے۔ اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی مقام ہے اور یہی غرور انہیں دنیا وی محبت میں لے ڈوبتا ہے۔
یہ سب اسلام کی عمارت کی بنیادیں ہیں۔ جس مسلمان کی عمارت کی بنیادیں ہی زندگی بھر نہ بن سکیں گی اس کے دین کی عمارت خیالی دنیا میں بن چکی ہوگی مگر درحقیقت وہ پیدائش سے لیکر اپنی موت تک خالی زمین پر کھڑا ہے۔(اور وہ دنیا کی زندگی میں یہ سمجھتے رہے کہ اچھے کام کررہے ہیں)


Home | About