سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

علم لدنی، علم دین اور علم دنیا

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

روحانی علوم کے حامل نااہل دنیا میں وہ فساد پیداکرسکتے ہیں جو ظاہری دینی و دنیاوی علوم کے حاملوں نے بھی کبھی نہ کیا ہوگا۔اس علم کی طاقت اللہ کے ساتھ ہے۔ اللہ کےعلوم خصوصا علم لدنی کا اہل ہر کوئی نہیں ہوسکتا اور اس علم کے صحیح حامل مومن بندے اللہ کی یہ امانت نافرمانوں اور نا اہلوں کے حوالے نہیں کرتے۔جسے تلاش ہوتی ہے وہ ڈھونڈے ، جستجو کرے اور حاصل کرے۔جب دنیاوی ڈگری کیلئے پندرہ سے بیس سال خوار ہوسکتے ہیں تو پھر اس حقیقی ڈگری کیلئے بھی کچھ قربانی بنتی ہے۔بالخصوص جب تلاش حضرت خضر علیہ السلام جیسے انسان کی ہو اور اس علم کو حاصل کرنا ہو جو اللہ کے خاص رازوں پر مشتمل ہے۔
دینی علم کا حال نا اہل طالب علموں کے ہاتھوں دیکھ لیں کہ کیسے امت کفر میں ٹکڑے ٹکڑےہوکر نفرت میں بکھری پڑی ہے۔اپنے سوا سب پکے جہنمی نظر آتے ہیںجس کیلئے دن رات مناظرے ، بیانات، تقاریر اور مضامین لکھ کر سر توڑ محنت کی جاتی ہے۔
دنیاوی علم کا یہ حال ہے کہ مادی ٹیکنالوجی کی بدولت اہم دریافتیں اپنی جگہ مگرمعمولی سا ایٹم بم بنانے کا علم ہاتھ میں آجانے سے انسانوں نے جو ٹریلن ڈالرز کا کاروبار ایٹمی انڈسٹری میں کیا ہے وہ اہل علم و عقل سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔
انسانیت تباہی کے دہانے پر ہے ۔ذرا سی ناراضی ہوجانے پر اگر ایٹمی ہتھیار وں کی جنگ شروع ہوئے تودنیا کے اربوں انسان ختم ہوجائیں ۔کروڑوں معصوم بچوں، عورتوں اور مردوں کوبے دردی سے مار ڈالا جائے گا۔یہ دیگر سیاروں پر جانے کی کوششیں کس وجہ سے ہورہی ہیں؟ کبھی غور کریں کہ ہتھیار بنانے والے بھی جانتے ہیں کہ ایٹمی تباہی کی جنگ کی صورت میں وہ بھی ختم ہوجائیں گے اس لیے میرے خیال کے مطابق ان کی کوششیں اس دنیا سے فرار حاصل کرنے کی خاطر ہورہی ہیں۔
بہر حال روحانی علم تھوڑا بہت علم حاصل کرلینا یا کالا علم حاصل کرلینا کوئی بہت بڑی بات نہیں۔ایسے لوگ معاشرے میں بہت مل جائیں گے اور وہ بھی فساد فی الارض ہی کئے ہوئے ہیں۔جعلی عاملوں، جادگروں اور دیگر شعبہ کے افراد کا حال دیکھ لیں۔
نا اہل کے ہاتھوں میں علم آنا مزید فساد کا سبب بنتا ہے جیسے ڈاکو کے ہاتھ میں تلوار دیکر یہ امید کرنا کہ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا۔یقینا قتل ہی کرے گا اور اگر استاد اپنے نالائق شاگرد کو وہ چیز دے جس کا وہ اہل نہیں تو یہ یقینا ناانصافی اور ضرورت مند انسانوں کے ساتھ ظلم ہوگا۔

روحانی علوم کے حامل مومن بندوں نےبہت کچھ کیا مگر اللہ کیلئے کیا۔مثلاًآگ میں جانا، مردے زندہ کرنا،چاند ٹکڑے کرنا، سمندر ٹکڑے کرنا، سورج روکنا اور ناجانے کیا کچھ جن سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ان مومن بندوں کا مقصد دین اسلام کیلئے کام کرنا تھا جبکہ اکثریت صرف شہرت و تماشے کیلئے کام کرتی ہے۔ان کے اپنے تربیت یافتہ حلقوں میں سے محض کوئی ایک یا چند افراد ہی اہل ہوتے تھے باقی سب دنیاوی مفاد کیلئے زیر تربیت ہوتے تھے۔
اللہ نے انسان کے دل و دماغ پر جو کچھ کھولا ہے وہ فی الحال کافی ہے اور بہت تیزی سے کھول رہا ہے جس کا اثر تیز ترین دریافتوں کے ذریعے آرہا ہے۔میرے خیال میں اتنا فائدہ انسانوں کیلئے کافی ہے مگر اس کے باوجود انسانیت دم توڑ رہی ہے۔
علم لدنی کے حامل مومن بندے آج بھی موجود ہیں  مثال کے طور پر میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو آج بھی دین اسلام غالب کرنے کیلئے اللہ کے حکم سے آگ میں جانے کو تیار ہے، سمندر اور چاند کے ٹکڑے کروانے کو تیار ہے، جنت سے کھانا منگوانے کو تیار ہے بلکہ قرآن میں موجود معجزات کو عملی طور پر دکھانے کو تیار ہےمگر صرف ایک مقصد کے تحت کہ دین اسلام غالب کیا جائے۔کسی تماشے یا فضول مطالبوں کیلئے نہیں۔
جب سے میں نے ان کے ساتھ دین اسلام کو غالب کرنے کیلئے دین کا کام شروع کیا سب سے زیادہ مذاق، طنز ، طعنے اور رکاوٹیں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ایک بھی مسلمان ساتھ دینے کیلئے تیار نہیںہوا ۔یہاں تک کہ ایک روپے کی قربانی کسی نے نہیں دی۔غیر مسلم اور ملحدین تو ویسے بھی ساتھ نہیں دیں گے کہ اللہ کا دین سچا ثابت ہوگا ۔ لہذاجب مسلمانوں کی اپنی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ مخلص نہیں تو پھر کوئی کافر کیا حقیقت رکھتا ہے؟
اللہ کے بعد حضرت محمدصلی اللہ علیہ سے زیادہ علم کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔جب انہوں نے ساری محنت دین اسلام کو غالب کرنے کیلئے لگائی تو پھر محض فنا فی اللہ میں جاکر اپنی ذات کا تنہا فائدہ اور لذتیں حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
جس روحانی طاقت سے مظلوم مسلمانوں کو ظلم سے نجات نہ دلائی جاسکے اس کے دعووں پر ہزاروں لاکھوں مرید جمع کرکے اللہ ہو کی ضربیں مارنا کیا حقیقت رکھتا ہے؟
اصل کام بقا باللہ کے تحت اللہ کا نائب بن کر اس کی زمین پر اس کے سچے دین کو تمام ادیان و مذاہب پر غالب کرنا ہے۔
میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حقیقی محبت ہے، دل میں ذرہ برابر بھی اخلاص ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مظلوم مسلمانوں اور جہنم میں جانے والے کافروں کو بچانے کا خیال ہے اور آپ اسی دنیا میں حقیقی کامیابی چاہتے ہیں تو اپنی سوچ کو کائناتی بنائیے اور اس کائناتی مقصد کیلئے کام کریں تاکہ آپ کو ملنے والا ثواب بھی آپ کی نیت کے مطابق کائناتی ہوجائے اور آپ کا درجہ بھی آپ کے دور کے انسانوں کے مقابلے میں کائناتی انسان والا ہوجائے لیکن تکبر ،غرور اور حسد سے ہر صورت پرہیز کریں ورنہ آپ کی زندگی عذاب بن جائے گی۔
یاد رکھیں کہ اللہ نے زندگی اور موت اس لیے بنائی تاکہ دیکھے کہ ہم میں سے کون بہترین عمل کرنے والا ہے۔اس لیے بہترین کام کا انتخاب کریں ۔


Home | About