سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

کند ذہن اور عقل سے پیدل مسلمان

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

میں جانتا ہوں کہ تروتازہ لاشیں ایک نئی دریافت ہے اور بہت سے لوگوں سمجھنے کیلئے بھی پوچھتے ہیں مگر یہ تحریر صرف ہٹ دھرموں کیلئے ہے۔
ایک بہت ہی عجیب عادت بہت سے مسلمانوں اورخصوصاًقرآن کی رٹ مارنے والے خود ساختہ عالم نما جاہلوں میں بیٹھ گئی ہے۔ویسے قرآن کی بہت سی باتوں پر سو فیصدعمل کرتے نہیں ، یقین کرتے نہیں (ماسوائے لفاظی )مگر کوئی نئی دریافت کوئی مسلمان سامنے لے آئے تو فوراًقرآن و حدیث کی رٹ لگاتے ہیں جہاں اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
بالفرض اگر ایسی رٹ مارنے والوں کو قرآن کی آیات اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم دی جائیں تو ایک نیا شوشہ لے آتے ہیں کہ قرآن کی آیت میں کہاں لکھا ہے کہ لاش تروتازہ ہی رہے گی؟ اس میں خون تروتازہ رہے گا؟ ویسے یہی لوگ قرآن کی آیات کے من مانی مطلب نکال کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں مگر جب اپنے ہی خلاف کوئی حقیقت سامنے آجائے تب بہانے تراشتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں اور وہ مطلب نہیں۔حالانکہ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ میری راہ میں قتل ہونے والوں کو مرد ہ خیال تک نہ کرو وہ زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے اور وہ خوش ہیں اور تمہیں ان کی زندگی کا شعور حاصل نہیں۔
احادیث میں واضح طور پر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ان کے اسی سوال پر کہ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں بوسیدہ ہوچکے ہونگے ‘ پر یہ بتایا کہ اللہ نے زمین کو انبیاء کے جسموں کے کھانے سے منع کردیا۔
نیزجب چودہ سو سالوں میں کئی صحابہ کرام، اولیائے کرام ، شہدائے اسلام اور سچے مومن و مومنات کی خون سمیت تروتازہ لاشیں اللہ کی مشیت سے منظر عام پر آگئیں تو کیا ان سب کو جھٹلایا جائے گا؟
اگر چودہ سو سالوںمیں کسی نے اس پر تحقیق نہیں کی کہ ان لاشوں کی نشانی سے کیا کام لیا جاسکتا ہے، اس قدرتی نشانی کی دلیل میں کتنی طاقت ہے اور یہ کس طرح کافروں کے دلائل نیست و نابوت کرسکتی ہے تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟
اللہ اپنے بندوں سے ہر دور کے مطابق کسی بھی طرح کے کام لیتا آرہا ہے۔ اب اگر یہی کام اس نے ہم سے لے لیا تو تعجب کی کیا بات ہے؟ عجیب کند ذہن دماغ ہوچکے ہیں۔شائداسی لئے اکثرمسلمان غور و فکرکرنے اورکچھ سمجھنے کی صلاحتیوں سے محروم ہیں۔
اگر میں کافروں کی دریافتوں کی فہرست لگائوں یا ان کی بنائی ہوئی چیزوں کا ذکر ویڈیوز کے ساتھ دکھائوںتو کیا کوئی پہلے قرآن کھول کر دیکھے گا کہ فلاں مووی، فلاں کمپیوٹر، فلاں موبائل، فلاں ٹیکنالوجی یا کسی بھی چیز کا ثبوت قرآن میں ہوگا تب میں دنیا میں اس کے وجود کی حقیقت کو مانوں گا؟
کوئی خبر ٹی وی یا اخبار میں نشر ہو تو پہلے قرآن کھول کر اس خبر کی تصدیق کی جائی گے؟
کوئی واقعہ کئی لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو تو پہلے قرآن کھول کر اس واقعہ کو ڈھونڈا جائے گا؟
کسی واقعہ پر عینی شاہدین گواہ ہیں تو پہلے قرآن میں اسے تلاش کیا جائے گا؟
حماقت اور بودے پن کی انتہا اپنے عروج پر ہے۔آپ کی آنکھوں کے سامنے ایک لاش تروتازہ موجود ہو اور آپ کہیں گے کہ میں اس کو نہیں مانوںگا جب تک یہ مجھے قرآن میں نہ لکھا ہوا ملے کہ لاشیں تروتازہ رہتی ہیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ وہ گورکن تم جیسے قرآن و حدیث کے علماء سےزیادہ عقل مند ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے لاشیں دیکھیں اور اللہ کی نشانی و قدرت کو تسلیم کرلیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ وہ ساری عام عوام تم جیسے احمقوں سے زیادہ عقل مند ہیں جو حقیقت سامنے دیکھ کر اعتراف کرتی ہے کہ اللہ کی نشانی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ وہ عام مسلمان جنہیں دین کا زیادہ علم نہیں مگر اللہ کی نشانی کو سمجھ لیتے ہیں تم سے زیادہ عقل مند ہیں۔
تمہاری مثال اس کبوتر جیسی ہے جو بلی سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کرے اور کہے کہ جب تک قرآن میں یہ نہ مل جائے کہ بلی میرے سامنے بیٹھی ہے تب تک اس کا وجود نہیں مانوں گا۔اس کو میں سوائے احمقانہ پن کے کیا کہوں ۔
ہر تحقیق و دریافت لازمی نہیں کہ قرآن میں ذکر ہوگی تو اس کا دنیا میں وجود ہوگا ورنہ وہ ہوتے ہوئے بھی نہ مانی جائے۔
ایک کام کرو تمام ٹی وی چینل و اخبارات کو بولو کہ اپنی ہر خبر کے ساتھ قرآن کی آیت لگایا کرو کہ فلاں جگہ کوئی واقعہ ہوا ہے اور اس کی تصدیق بھی پہلے قرآن سے کرلیا کروورنہ میں بھی کسی واقعہ کی خبر، ویڈیو، عینی شاہدین کی بات نہیں مانوںگاخواہ تم جتنے مرضی ویڈیوز، کہانیاں اور تقریریں کرلو۔جیسی کرنی ویسی بھرنی۔


Home | About