سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

صرف عورت ہی کیوں برداشت کرے ؟

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

عورت کے حجاب میں ہوتے ہوئے بھی مرد اس سے بدسلوکی کرتا ہے۔مردوں کے اس سماج میں صرف عورتوں کو ہی پردہ کیوں کرنا پڑتا ہے؟ مرد کو حجاب کرنا چاہئے اپنی آنکھوں پر۔اپنے دماغ پر۔
مردوں کے سماج میں عورت ہی کیوں ستائی جائے؟مرد اپنے آپ پر کیوں قابو نہیں کرسکتا؟ اپنی عورتوں کو ڈھکتا ہے مگر دوسری عورتوں کو سیکس objectکے طور پر دیکھتا ہے؟ اس لیے کہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ لوگ اس کی بہن، بیٹی یا بیوی کو بھی ایسے ہی دیکھیں گے۔
مرد کا سارا پردہ عورت پرشروع ہوتا ہے جبکہ اللہ پہلے مرد کو حکم دیتا ہے۔اپنی ذات کو قانون سے بالاتر سمجھ کر سارا قانون صرف عورت ہی کیلئے کیوں رکھتا ہے؟
یہ اسے اپنی مردانگی سمجھتا ہے اور کمزور عورت پر زبردستی اور غصہ کرتا ہے جبکہ یہی مرد اپنی ذات پر اللہ کی ناراضی کی پرواہ نہیں کرتا؟
اپنے لئے اللہ سے بخشش و مغفرت کی گارنٹی سمجھتا ہے مگر اپنی عورت پر ذرہ برابر بھی ہلکا ہاتھ نہیں رکھتا۔کیوں؟
یہ تنگ نظر اور خشک ذات کا مرد اپنی نگاہوں کی لذت دوسری عورتوں سے لیتا ہے ۔لیکن اپنی عورت پر کسی غیر کی نظر اس سے برداشت نہیں ہوتی؟ یہ منافقت کیوں؟
اپنی عورت پر زبردستی پردہ تھونپتا ہے ۔ بے پردگی کے لیکچر سناتا ہے لیکن دوسروں کی عورتوں کوایکسرے مشین کی طرح جھانکا تانی کرتا ہے۔
یہ مرد کیوں اپنی نظر پر پردہ کیوں نہ کرے صرف عورت ہی کیوں برداشت کرے۔


Home | About