سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

فیس بک کے تنگ نظر اور مفاد پرست مسلمان

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

میں نے مخلص مسلمانوں کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر لوگوں کے ساتھ فیس بک کے تجربات سے پتہ لگا کہ آپ کی پوسٹ خواہ کتنی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو مگر آپ کی بات کو لائک کرنا یا آگے بڑھانے میں کچھ کردار ادا نہیں کریں گے۔خصوصا ایسی بات جو مذہب سے متعلق ہو۔
دین اسلام کے نام پر کئی گروپس کام کررہے ہیں جو دن رات ایک کرکے ’دین‘ کا کام کرنے میں مگن ہیں۔دکھایا یہ جاتا ہے کہ ہم اللہ کیلئے کام کررہے ہیں ۔جب کئی گروپس میں کام کیا، کئی مسلمانوں تک پیغام پہنچایا جن میں سے بہت سے ایسے شامل ہیں جو دکھ بھری تحریریں لکھتے ہیں، مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر شاندار لفاظی کرتے ہیں مگر درحقیقت عملی طور پر منافقت ان کے دل میں بھری ہے۔ یہ مسلمان عملی زندگی میں مظلوم انسانوں کیلئے کچھ نہیں کرنا چاہتے۔یہ سب گروپس، پیجز اور مسلمان اپنے اپنے مفاد اور شہرت کیلئے کام کررہے ہیں۔
میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کیونکہ مجھے نو سالوں کے بعد بھی ایسا ایک مسلمان نہیں ملا جس نے دین اسلام کو غالب کرنے کیلئے مخلص ہوکر کام کرنا چاہا ہو بلکہ دین کے نام پر کام کرنے والے اکثر مسلمان (عوام سے لے کر خواص تک) صرف مذاق اڑاتے نظر آئے،طنقید کرتے اور گالیوں پر اتر آتے۔
یہاں کمیونیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ اپنے ہی گروپس یا مخصوص لوگوں کی پوسٹ آگے بڑھائیں گے اور انہیں کو لائکس کریں گے۔ ان سب کے انداز دیکھ کرایک مخلص مسلمان کو ان کی بے حسی ، خودغرضی اور تکبر کا اندازہ ہوجاتا ہے۔عاجزی سے محروم لوگ ہیں۔خود کو علم کامل اور عقل کامل سمجھ بیٹھے ہیں اور اپنے علم کی قید میں کسی اور کی بات ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔


Home | About