سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

دعائوں کے سہارے پر بے عمل مسلمان

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

یہ اللہ کا طریقہ نہیں کہ صرف دعائوں کے سہارے سب کچھ کروالیا جائے۔اگر ایسا ہوتا تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم گھر پر بیٹھ جاتے اور صحابہ کرام سمیت صرف دعائوں کے بل بوتے پر کام کروالیتے۔مسلمانوں کی اکثریت دعائوں پر تکیہ لگائے بیٹھی ہے اور چاہتے ہیں کہ خود کچھ نہ کریں اللہ آسمانی مدد کے ذریعے ان کے سارے مسائل حل کردے۔یہ ایک طویل بات ہے اس لئے فی الحال میں اس کی تفصیل میں نہیں جائوں گا۔
میری نظر میں اس وقت دشمن سے جیتنے کیلئے صرف دعائیں یا مادی تحریک سے کچھ نہیں ہونے والا۔اگر ایسا ہوتا تو دنیا بھر کے اکثر مسلمان اور ان کی اکثر تحریکیں خاک کا ڈھیر نہ ہوتیں ۔دشمن مکمل طور پر ساری دنیا پر کنٹرول رکھتا ہے اور دشمن کو شکست دینے کیلئے اللہ پر سو فیصد یقین کے ساتھ ظاہری طور پر دشمن کے ماسٹر مائنڈز سے زیادہ ہوشیاری کے ساتھ گیم کھیلا جائے۔
تحریک چلانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ مقصد اہم مسائل یعنی مذہبی جنگیں ختم دی جائیں اوراسلام غالب کیا جائے جس سے باقی مسائل عالمی سطح پر حل ہوجائیں گے۔یہ سب کرنے والا میرے پاس موجود ہے مگر چند سالوں کے تجربات کے بعد میں جانتا ہوں کہ مسلمانوں کی تحریکوں کے اکثر لیڈرز اخلاص سے عاری ہیں اور شہرت کیلئے محض اپنی جماعتوں کے لئے کام کرتے ہیں اللہ کے دین کیلئے نہیں۔
اللہ نے امت مسلمہ کیلئے اپنے بے پناہ فضل سے حل دے دیا مگر مسلمانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔غیر مسلموں کو شکست کتابی اور ظاہری وسائل سے دینا مسلمانوں کے بس میں نہیں ہے۔مسلمانوں کی جرات نہیں کہ غیر مسلموں کے کنٹرول ہوتے ہوئے ایسی تحریک چلا سکیں ۔
تن تنہا کچھ کرنا ہوتا تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہری وسائل ، اسباب، طاقت جمع کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔
مسلمان جس حضرت عمر فارق، صلاح الدین ایوبی ، شیخ عبد القادر جیلانی جیسوں کے لئے دعائیں مانگتے ہیں ان جیسوں کا ساتھ دینے کی جرات انہیں مسلمانوں میں نہیں۔درحقیقت دل میں منافقت ہے اور منہ پر دعائیں ہیں۔کیا یہ دعائیں مانگنے والے ایسی کسی انسان کا ساتھ دینے کیلئے جانی قربانی نہ سہی کم سے کم اپنے مال میں سے کچھ خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں؟
جب مقصد عالمی سطح پر اسلام کا غلبہ ہو تو پھر مسجد بنانے کیلئے لاکھوں کروڑوں خرچ نہیں کئے جاتے۔
جب مقصد عالمی سطح پر اسلام کا غلبہ ہو تو پھر چند غریبوں پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ دنیا بھر کے غریبوں کی فلاح کیلئے خرچ کیا جاتا ہے۔
بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی سوچ ان کی ذات کے ارد گرد گھومتی ہے۔اپنے مفادات کیلئے کچھ بھی خرچ کردیتے ہیں۔یہ جو صدقات، خیرات، حج و عمرہ کرتے ہیں یہ بھی اپنے فائدے کیلئے اور مصیبتوں سے بچنے کیلئے ہے۔
اگر ایک مسجد ، اسپتال اور اسکول بنانے کے بجائے تقریباً ان سب پر آنے والا صرف دو کروڑ روپے پر کوئی مالدار مسلمان میرے ساتھ معاہدہ کرلے پھر دیکھو کہ دین اسلام کی سچائی کس طرح ثابت کی جائے گی ۔اللہ کے خالص دین اسلام کو غالب کرنے کے لیے دو کروڑ روپے دینے والا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص فیض روحانی حاصل کرے گا۔بالکل اسی طرح جیسے دین اسلام کا ساتھ دینے کے لیے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ ہدیہ کر دیے تھے اور کامیابی سمیٹ لی تھی۔


Home | About