سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

مسلمان عالمی طاقت کیسے بن سکتے ہیں ؟

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

میں بغیر کوشش کے خالی دعائوں کا قطعی قائل نہیں۔یہ انبیاء کرام کا طریقہ نہیں اور نہ ہی اللہ کا ۔اگر ایسا ہوتا تو دو تقریبا دو ارب مسلمانوں کی دعائوں سے ظلم سے بھری دنیا کی کایا پلٹ جاتی۔اگر اللہ کے وعدے پر ہی بیٹھنا ہوتا تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ بیٹھ کر صرف دعائیں کرتے اور امت کی فکر نہ کرتے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آدھی دنیا تک اسلام کا غلبہ نہ لے جاتے بلکہ وعدے پر بھروسا کرکے بیٹھ جاتے۔
میرے علم ، فراست اور دنیا پر نظر کے مطابق مذہبی لگائو والے اکثرمسلمانوں نے اپنی کوششیں فرقوں کی ترقی اور امت کو کافر قرار دینے تک محدود کرلیں ہیں اور دنیا کی طرف لگائو والے تقریباً اکثر مسلمانوں کو دین اسلام کو غالب کرنے سے کوئی غرض نہیں۔دنیا کے 70فیصد غیر مسلموں کے سامنے تقریباً25فیصد ناکارہ مسلمان ہیں(فرقی مذہبی یا دنیاوی) ۔باقی 5فیصد میں سے کتنے فیصد سو فیصد اسلام سے مخلص ہوکر اسے غالب کرنے کی کوششیں کررہے ہیں وہ شاید مجھے بتانے کی قطعی ضرورت نہیں۔
فرقی مذہبی مسلمانوں سے آپ اسلام غالب ہوجانے کی امید لگائیں گے؟ ان کا مقصد اپنے فرقوں کی تبلیغ ، مخالف مسلمانوں کو کافر قرار دینا اور اسلام کا لیبل لگاکر اپنا دھندا چلانا ہے۔ان فرقی مسلمانوں میں نفرت کی آگ اس قدر بھیانک طریقے سے بھڑک رہی ہوتی ہے کہ یہ دوسرے فرقے کے مسلمان کو برداشت نہیں کرسکتے۔
ایسے حالات میں دنیا میں تبدیلی دیکھنے کے خواہشمند اکثر مسلمان خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور یہ حقیقت ایک زناٹے دار تمانچہ ہے!


Home | About