سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

اللہ کے مخلص بندے کہاں ہیں؟

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

میں اللہ کے کام کرنے کے طریقے اپنے علم کے مطابق خوب جانتا ہوں۔اگر اللہ کو دنیا میں خود ہی سب کچھ کرنا ہوتا تو آن کی آن میں ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کام کیلئے اس نے انسان کو اپنا نائب بناکر بھیجا ہے اور یہ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں پر بہت بھاری ڈیوٹی ہے کیونکہ دنیا کے غیر مسلموں کے ہاتھوں تقریباً تمام ظاہری وسائل اور گلوبل ولیج بنا کر اللہ نے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ وہ آسانی سے ساری دنیا تک اسلام کے معجزاتی دلائل پہنچاسکیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ فرقوں میں بٹے اسلام کو کیا خاک غالب کرینگے بلکہ اکثر فرقہ پرست مسلمان ایک دوسرے کو ہی کافر بنانے کی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔اس لئے میرے کام کو سمجھنا کم از کم کسی فرقی مسلمان کے بس کی بات نہیں کیونکہ وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کیا میں اس کی جماعت کا ہوں یا نہیں۔اگر نہیں تو نفرت سے نظرانداز!
اب وہ مسلمان جنہیں مذہب سے خاص لگائو نہیں ان سے اسلام غالب کروانے میں ساتھ ہوجانے کی امید میں محنت کرنے کے بعد تاحال کچھ حاصل نہیں ہوا۔جہاں تک غیرمسلموں کا تعلق ہے تواللہ ان میں سے جس کو چاہے اپنے دین کیلئے استعمال کرلے اس لئے ان تک بھی پیغام پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔
فرقی مسلمانوں اور دنیا دار مسلمانوں سے ہٹ کر جتنے بھی دیگر مسلمان کسی سیاسی یا دیگر جماعتوں سے وابستہ ہیں ان کی جماعتیں دنیا میں کچھ خاص کام نہیں کرسکیں اور نہ کر پارہی ہیں کیونکہ وہ اتنا ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جتنا غیر مسلم قوتیں چاہیں گی یعنی کہ ابلیس کے پیروکار۔یہ جماعتیں صرف احتجاج ، رونا پیٹنا، تقاریر اور لوگوں سے مال بٹور سکتی ہیں مگر دین اسلام غالب کرنا یا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو نجات دلانا ان کے بس کی بات نہیں۔کیونکہ ان کے پاس اس کا سو فیصد حل نہیں ہے، نہ مادی قوت، نہ روحانی قوت ۔ اس لئے ناکام ہیں۔
اب وہ چند فیصد جماعتیں جو بالکل ہی غیر سیاسی بن کر صرف اللہ ہو ، سنتیں اور تبلیغ کے نام پر کام کرتی ہیں تو یہ اسی لئے جاری و ساری ہیں کہ یہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی طرز پر کام نہیں کررہیںورنہ ان کا ٹکرائو ظلم کے خلاف نظر آتا۔یہ لوگ اس سوچ کے تحت چلتے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں۔اس لئے ایسی خالص مذہبی اور غیر سیاسی جماعتوں کی تربیت کے باوجود کوئی ٹیپو سلطان، محمد بن قاسم، شیر شاہ سوری، عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی طرز پر نظر نہیں آتا۔
آخر میں وہ مجاہدین اسلام جو اللہ کیلئے مخلص ہیں وہ اللہ کی مدد کے سہارے اپنا کام کررہے ہیں اور غیر مسلم سمیت غدار مسلمان اور برین واش مسلمان ان کے خلاف اپنا کام کررہے ہیں۔ان کے خلاف میڈیا چلتا ہے اور دنیا بھر کامیڈیا یہودیوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔یہودی بہت شاطر قوم ہے وہ جنگوں کے ذریعے لڑائی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے عورتوں کے ذریعے نوجوان مسلمانوں اس قابل نہیں چھوڑا کہ یہ کافروں کے خلاف کچھ کرسکیں اس لئے اخلاقی و معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں۔
ایسے حالات میں اگر کوئی مسلمان یہ کائناتی سوچ رکھے کہ وہ اکیلا حضرت محمدصلی اللہ علیہ کی امت کیلئے عالمی سطح پر کچھ کرے تو اس کا ٹکرائو مخلص مجاہدین اسلام کے علاوہ باقی سب سے لازمی ہوگا کیونکہ دیگر تمام مسلمان اپنے مفاد، موت کے خوف یا منافقت کے تحت اس کا ساتھ نہیں دینگے اور غدار مسلمان اس نقصان پہنچانے کا کردار ادا کریں گے۔


Home | About