سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

سب سے بہتراور افضل ترین کام والا انسان

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

اللہ نے انسان کو اس لئے تخلیق کیا تاکہ یہ چیک کرے کہ کون بہترین عمل کرنے والا ہے۔جب میں نے بہترین کامو ں پر غور کیا تو سب سے بہتر کام کسی کافر کو اسلام میں داخل کرنا پایا۔کیونکہ مجھے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دن رات پر غور کرنے کے بعد ان کے درد کی وجہ سمجھ آگئی کہ وہ سب امت کی فکر ہے۔اسی امت کیلئے آپ روتے تھے، پریشان رہتے تھے ، دعائیں کرتے تھے اور اسی امت کو جہنم سے بچانے کی خاطر آپ نے کافروں کو اسلام کی دعوت دی ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون بہایا گیا، بیٹیوں کو طلاق دی گئی،ان کے شاگردوں پر انتہا سے بڑھ کر ظلم کے پہاڑ توڑ دئے گئے، ان پرگالیاں، طنز ، الزام تراشیاں اور نہ جانے کیا کچھ کیا گیا اور آج بھی دنیا بھر میں ان کے خلاف ناجانے کیا کیا بکواس غیرمسلم اور ملحدین کررہے ہیں۔
لہذا میرے نزدیک پوری دنیا میں اس سے افضل کام کوئی نہیں کہ دنیا کے تمام ( تقریباً پانچ ارب)کافروں کو اسلام میں داخل کرنےپر کوشش کی جائے اور اس کیلئے تمام تر جسمانی، روحانی اور جدید مادی وسائل کو استعمال کیا جائے ۔تمام انسانوں میں افضل ترین انسان انبیاء کرام ہیں اور کفر سے اسلام کی طرف دعوت دینا انبیاء کا کام رہا ہے۔انبیاء میں سب سے افضل اور اللہ کے محبوب محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنی امت کی فکر رہی اور وہ سب سے زیادہ خوش اس وقت ہوتے تھے جب کوئی کافر مسلمان ہوتا تھا اور ہمیشہ کیلئے جہنم جانے سے نجات پاتا تھا۔اسی لئے ایک حدیث کے مطابق جدید مفہوم میں ’کسی کافر کا ہدایت پا جانا ایک مسلمان کیلئے کروڑوں روپے حاصل کرنے سے بہتر ہے۔‘اور قرآن کے بقول مفہوم آیت ’اس سے بڑھ کر بہترین بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے‘۔اور جب قرآن کے بقول اللہ نے زندگی اور موت اس لئے بنائی تاکہ بہترین عمل کرنے والے انسانوں کو دیکھے تو پھر سب سے افضل اور سب سے بہترین کام اربوں کافروں کو دین اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
بجائے یہ کہ مسلمانوں کی اصلاح پر کام کیا جائے جس پر بہت سی مذہبی جماعتیں صدیوں سے کام کررہی ہیں مگر اسلام پھر بھی مغلوب ہوگیا اور اکثر مسلمان تب بھی بے عمل ہی رہے تو نتیجہ ناکامی ملا۔تو پھر ہزاروں علماء اور کئی جماعتوں کے ہونے کی بنا پر میرا مقصد صرف دین اسلام کی سچائی تمام کافروں پر ثابت کرنا ہےاور اسی نیت، جدوجہد کی وجہ سے اللہ نے میرے سپرد یہ کام کیا اور ایسے ناقابل شکست دلائل مہیا کردئے جن سے یہ کام سرانجام دیا جاسکے۔
اس وقت میرے پاس صرف لاکھوں کروڑوں روپے نہیں کہ اس کام کی مارکیٹنگ دنیا بھر تو دور صرف پاکستان بھر میں کرواسکوں۔لہذا اگر ایک بھی مالدار مسلمان صرف دو کروڑ پاکستانی روپے دین اسلام کے لیے ہدیہ کردےتو وہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خود کو کامیاب کرواسکے گا ، اسے دنیا کی زندگی میں ہی ان شاء اللہ اس کی نشانی اللہ سے مل جائے گی اوریہ میری گارنٹی ہے۔


Home | About