سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

اسلام پر جارحانہ حملے اور پسپائی اختیار دفاعی مسلمان

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

اکثر و بیشتر دیکھتا ہوں کہ مسلمان علماء و دانشور اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ ملحدین اور غیر مسلم اسلام کو پھیلنے سے روکنے کے خلاف محاذآراء ہوگئے اور اسلام کے خلاف چند مخصوص باتوں کو لے کر بے بنیاد پراپیگنڈا شروع کردیا جس سے مسلمانوں کے دل میں عقائد دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔پھر رہی سہی کسر مسلمانوں کے اعمال کی کمزوری اور دنیاوی محبت پر ڈال کر اپنا حق شکوہ ادا کردیتے ہیں۔
میں پوچھتا ہوں کہ آپ کو اس بات کو ماننے میں تکلیف کیا ہے کہ آپ لوگوں نے صرف پسپائی اختیار کر رکھی ہے۔دشمن اسلام ہر طرف سے اپنی پلاننگ کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں پر ہر طرح کے حملے کرکے کامیاب جارہا ہے مگر آپ لوگ انہیں واپس دھکیلنے کی جوابی کاروائی کے بجائے صرف چند تقریریں کرکے سمجھتے ہیں کہ آپ نے دشمن کا وار ناکام بنانے میں بہت اہم کردار ادا کردیا۔جناب عرض یہ ہے کہ دشمن اسلام مسلسل حملے کررہے ہیں اور آپ صرف بیٹھ کر ان کے بے تحاشہ حملوں کے خلاف چند الفاظ سے دفاع کرنے کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔اس طرح جنگ جیتی جاتی ہے؟
مجھے افسوس ہے عام مسلمان تو دینی جہالت کے باعث مرہی چکا ہے مگر آپ علماء و دانشور حضرات نے سیرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کیا خاک سیکھا؟کیا محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے خلاف محض صحابہ کے ساتھ بیٹھ کر تقریریں کی تھیں یا وعظ و نصیحت کرکے صبر کئے بیٹھے رہے تھے؟ کیا دشمن کے خلاف بغیر پلاننگ کئے اسلام کو طاقت ور بنا دیا گیا تھا؟ نہیں!
ہم لوگوں نے اسلام کے دشمنوں کو کامیاب ہونے کا پورا موقع خود ہی دے رکھا ہے۔اگر آپ علماء کرام غیرمسلموں کو اسلام میں بذریعہ معجزاتی ثبوت داخل کرنے کی کوشش کرتے تو وہ ہم سے دشمنی نہ رکھ پاتے کیونکہ ان کے سامنے حق واضح ہوجاتا۔لیکن آپ علماء حضرات حسد و جلن کے باعث نہ خود کام کرتے ہیں اور نہ ہمارے تحقیق کردہ ثبوت آگے پیش کرتے ہیں۔


Home | About