سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

مجبور عورت اوربھیڑیوں کا معاشرہ

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

مسئلہ لڑکیوں کے جسموں کو استعمال کرنے کا صرف مولوی تک نہیں ہے۔بلکہ روزانہ جس کا جہاں بس چل رہا ہے وہ یہ کام اپنے شعبہ میں کررہا ہے۔عورت کو خواب دکھاکر باہر نکال کر اپنے قریب لانے کا اصل مقصد عورتوں کے جسموں کا تار تار کرنا ہے اور نوچ کر پھینک دینا ہے۔
جب کوئی ڈاڑھی والا کسی عورت سے غلط کام کرتا ہوا مل جائے تو شور مچ جاتا ہے۔ لیکن جب لبر ٹائپ لوگ عورت سے غلط کام کریں تو آپ کے میڈیا چینل میں سے صرف ایک چینل خبر کھولے؟ باقی خاموش کیوں؟ اس لئے کہ اس کھیل میں بہت سے ہاتھ شامل ہیں ۔یہی کام مولویوں نے کیا ہوتا تو کئی چینل طوفان کھڑا کردیتے کیونکہ انہیں اسلام پر کیچڑ اچھالنے کا موقع چاہیے۔
بہرحال دوسری جانب ہم لوگ خود کیا کرتے ہیں؟
وہ عورتیں اور لڑکیاں جو مجبور ہوکر گھر سے نکلتی ہیں ۔چلو لبرل تو لبرل ہے مگر اسی معاشرے کے اکثر مسلمان نما بھیڑئیوں سے انہیں خوف کیوں آتا ہے؟
جہاں جس کا بس چل رہا ہے وہ ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیوں کررہا ہے؟
اس لیے کہ خوف خدا مرچکا ہے۔یہ مُردوں کا معاشرہ بن چکا ہے۔
میں حق اور سچ بولوں تو بہت کڑوا لگے گاکہ سیاسی و دنیادار جماعتوں کو تو ایک طرف رکھئے ۔ آج ہمارے مذہبی جماعتوں لوگوں نے بھی عورت کو گھر میں بند رکھنے اور پردے میں بٹھانے پر تو بہت زور دیا ہے مگر کیا ان مذہبی جماعتوں کے لوگوں نے غریب، بے سہارا عورتوں کو باعزت روزگار دینے کا باقائدہ کوئی انتظام کیا ہوا ہے؟
عزت دار شریف کنواری و بیوہ وغیرہ کے رشتے اپنی اپنی مذہبی جماعتوں کے دین دار نوجوانوں سے کروانے کا کوئی انتظام کیا ہوا ہے کہ وہ ان کا سہارا بن سکیں اور معاشرے سے بے حیائی رکنا شروع ہو؟
اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو مجھے بھی بتایئے کیونکہ اس کا جواب مجھے اب تک نہیں ملا۔اربوں روپے کے فنڈ صرف پڑھنے پڑھانے پر ہی لگانا ہے اور بے حیائی کے سمندر پر بس باتیں کرنی آتی ہیں۔


Home | About