سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

فیس بک کے تماشائی

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

فیس بکی مسلمانوں ۔۔میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں کی اکثریت اپنے رشتہ داروں سے شرمندگی سے بچنے کی خاطر لاش کے کام یا دیگر باتوں کو قطعی آگے نہیں بڑھاتے۔اور بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔۔۔مگر اللہ کے بندوں۔۔کیا عقل سے بالکل بھی کام نہیں لیتے؟
کیا اپنی عزت کی فکر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عزت سے بڑھ گئی ہے؟
محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو ملحدین اور کفار گندی گالیاں دیتے ہیں ۔۔۔آپ لوگوں کی غیرت کا جنازہ پڑھوانے کیلئے کیا فرشتے بلوائے جائیں؟
جس اللہ سے دن رات عالم اسلام کو بچانے کی دعائیں کرتے ہو۔جس فیس بک پر عمر فاروق و سلطان صلاح الدین ایوبی کی دعائوں پر آمین کی لمبی لمبی قطاروں میں شامل ہوتے ہو۔جب ایک کام کو صرف فیس بک پر بھی آگے بڑھانے کی ہمت نہیں کرسکتے تو آپ جیسے بزدل مسلمانوں کیلئے اللہ آسمانی مدد نازل کرے گا؟ کبھی بھی نہیں!!!
نہ آپ کو جا ن کی قربانی دینی ہے۔ نہ مال لگانے کو کہا ہے۔۔۔پیغام تو آگے بڑھائو۔۔۔اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو انتظار کرو اس عذا ب کا جو آپ کو گھروں میں ہی الٹ کر رکھ دے گا۔ان شاء اللہ!
جس قوم کی فیس بکی اکثریت کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر اچھلتا کیچڑ پسند ہو اور ان کی عزت سے بڑھ کر اپنے ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے، رشتہ دار، دولت، عزت، شہرت، بزنس و دیگر چیزوں سے محبت ہو ۔۔تو میرے کام کو تماشائی بن کر دیکھنے والوں ۔۔۔بس انتظار کرو !
تبدیلی تو اکثر مسلمان چاہتے ہیں۔۔۔۔مگر خاموش تماشائی بن کر! ۔۔۔کسی قربانی کے بکرے کا انتظار کررہے ہیں جو اکیلا ہی آسمان سے نازل ہو اور سب کچھ حل کردے تو پھر ٹھیک ہے دیکھو تم لوگوں کی زندگی جہنم کیسے بنتی ہے۔


Home | About