سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

پڑھی لکھی جاہل مائیں

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے جاہلوں کی کمی نہیں ہے ۔ ایسی مائیں ہیں کہ ڈاکٹر بن چکی ہیں ۔ باہر لوگوں میں پرفیشنل بنی پھرتی ہیں لیکن گھر میں بچوں کو ڈانٹ کر مار کر پڑھاتی ہیں۔بچوں پر ظلم ہوتا رہتا ہے اور بچوں کا باپ اپنی پڑھی لکھی بیوی کو روکنے کی کوشش کرے تو یہ پرلے درجے کی دین سے جاہل دنیا دار بیوی اپنے شوہر سے بدتمیزی پر اتر آتی ہے۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عورت کی ماں بھی اس میں شامل ہوتی ہے ۔ اسے اپنے شوہر کے خلاف کرتی ہے۔ اکساتی ہے، بدمزاج بنادیتی ہے۔ پھر اس کی بیٹی باہر جاب کرتی ہے، دوسروں مردوں سے ہنس ہنس کر باتی کرتی ہے، رشتہ داروں کی خاطر تواضع کرتی پھرتی ہے، موبائل پر لگی رہتی ہے لیکن جب بھی شوہر سے بات کرتی ہے تو کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ اور اگر شوہر شکوہ کرے تو کہتی ہے کہ مجھے تو آپ سے محبت ہے۔
مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ شوہر ایسی عورت کو اس لیے نہیں چھوڑتا کہ اس کے بچے خوار نہ ہوجائیں کیونکہ معاشرے کے لو گ انتہا کے جاہل ہیں اور ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ انسان کو قبر میں دفن کردیں۔وہ نہیں چاہتا کہ اپنی بیوی کو چھوڑے اور جب کوئی پوچھے کہ بچوں کا باپ کدھر ہے تو بچے اپنے باپ کے بغیر لوگوں کے طعنے سنیں۔موت آجانا ایک الگ بات ہے اس پر تو انسان صبر کرلیتا ہے لیکن زندگی میں خود ایسا فیصلہ کرنا مناسب نہیں لگتا۔
شوہر اپنا حق تو چھوڑ سکتا ہے کہ بیوی اس سے بدتمیزی کررہی ہے اور ذلیل کررہی ہے۔لیکن اپنے بچوں پر ہوتے ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ جس کی وجہ سے اکثر تو تو میں میں رہتی ہے۔بات منہ ماری سے گالی گلوچ پر آجاتی ہے اور بعض صورتوں میں طلاق پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔ ایسا عموما ان گھروں میں ہوتا ہے جہاں مرد گھر داماد بن کر رہتا ہے یا عورت کی ماں اس کے ساتھ رہتی ہے۔کیونکہ اپنی بیٹی کا گھر اجاڑنے میں سب سے زیادہ ہاتھ اس کی ماں کا ہی ہوتا ہے جو شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے کان بھرتی رہتی ہے۔


Home | About