سینٹر آف اسلام سائنس (عقل والوں کے لیے)

کیا منہ دکھاو گے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو؟

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

نہ تم سے بیٹی محفوظ، نہ تم سے بہن محفوظ، نہ تم سے کزن محفوظ، نہ تم سے بھابھی محفوظ، نہ تم سے بھانجی محفوظ، نہ تم سےبچیاں محفوظ، نہ تم سے شاگرد محفوظ، نہ تم سے نوکرانی محفوظ، نہ تم سے دوسروں کی مائیں بہنیں محفوظ ۔۔ آخر کب تک تم شیطان کے غلام بنے رہو گے؟ کیا منہ لے کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوگے؟ کہ ان کی امت کی لڑکیوں اور عورتوں کی عزت کا جنازہ ایک طرف تو کفار اور اسلام کے دشمن میڈیا اور موبائل ایپ پرنیم برہنہ لڑکیوں کے ذریعہ امت کے نوجوانوں کو بدکرداری کی طرف للچاکرنکال رہے تھے اور دوسری طر ف تم بھی کفار اور شیاطین کے آلہ کار بن کر ان کے مشن میں شریک حال شامل رہے؟
کیا تم جانتے نہیں کہ جب ایک کافر لڑکی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملاقات کے لیے آئی تو اسے بھی چادر دی گئی؟ اور تم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی کافر لڑکیاں تو ایک طرف، مسلم لڑکیوں کے جسم تار تار کرنے کے لیے دن رات منصوبے بناتے رہتے ہو؟ شیطانی خیالات کے مطابق پلاننگ کرتے رہتے ہو کہ کب تم کسی لڑکی کے جسم سے کھیل سکو؟ کیا تم سمجھتے نہیں کہ اللہ کس طرح تمہیں مختلف حالات میں بچاتا رہتا ہے ورنہ تم تو کب کے زنا و فحاشی کے راستے پر چل کر ہلاک ہوچکے ہوتے اور گندگی کی ان گہراہیوں میں جاگرتے جہاں ابلیس تمہیں شرم کی مٹی ڈال ڈال کر دبا دیتا۔
یہ اللہ کی مہربانی اور کرم نوازی نہیں تو کیا ہے کہ تم چاہتے ہوئے بھی بہت مرتبہ زنا کرنے سے بچ جاتے ہو؟ تم جانتے ہو کہ تمہاری نیت کس قدر بھیانک ہوتی ہے کہ اگر اللہ تمہارا خیال نہ کرے تو تم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہو۔ تمہارا منافقت سے بھرپور کردار جو ظاہر میں شریعت اور اسلامی باتوں سے آلودہ ہوتا ہے لیکن باطن خباثت کی پرچھائیاں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔کیا یہ روز انہ گھٹ گھٹ کر گھسٹتی ہوئی زندگی سے تم تنگ نہیں آتے؟ یقینا تمہیں اس کا احساس رہتا ہے کیونکہ تمہیں اللہ نے ابھی ہلاک نہیں ہونے دیا۔ورنہ ان لوگوں کے بارے میں غور و فکر کرو اور ان کا حال دیکھو جنہیں نفس نے برائی کا حکم دے رکھا ہے اور وہ شیطان کی باتوں میں آکر تباہ و برباد ہورہے ہیں۔انہیں احساس بھی مرچکا ہے کہ وہ اپنی زندگی جانوروں سے بھی بدتر حالات میں گزار رہے ہیں۔تم تو بہت خوش نصیب ہو کہ ابھی اللہ نے تمہیں مرنے نہیں دیا بلکہ اتنا موقع دیا ہے کہ واپس لوٹ سکو اور معافی مانگ سکو ۔تم اپنے گناہوں اور نیتوں کے سبب شرمساری میں مایوس کیوں ہوجاتے ہو کہ ایک قدم نفس پر رکھ کر اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں آرہے؟ شیطان تو تمہیں یہ احساس دلاتا ہی رہے گا کہ تم ناکارہ و فضول ترین انسان ہو۔ تم اللہ کے دین کے لائق نہیں۔ تم اس قابل نہیں کہ اچھا کام کرو۔ کیا تم سمجھتے نہیں کہ جب تم گناہ کرتے ہو تو خود کو کس قدر چھوٹا خیال کرتے ہو؟ کس قدر معمولی سمجھتے ہو؟ یہ سب کیا ہے؟
یہ شیطانی چال ہے کہ وہ تمہیںاچھے راستے سے مکمل طور پر گرانا چاہتا ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ کون اس کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ عام دنیادار مسلم لوگ اور تمام غیرمسلم شیطان کی غلامی میں جی رہے ہیں۔ ان سے ابلیس کو اتنا خطرہ نہیں جتنا تم اس کے لیے خطرے کا باعث ہو۔اس لیے اپنی ذمہ داری کا احساس کرو اور جس دین کے پیروکار ہو اس کا جھنڈا ہاتھ سے گرنے مت دو کہ تم ابلیس کے خیالات سے خود کو ہلاکت میں ڈال دو۔تم شریعت کی باتیں کرتے ہو اور قرآن پڑھتے ہو ۔ اگر تم بھی ہلاکت میں پڑ جاو گے تو سوچو کہ شیطان کے ہاتھوں سے کون سا طبقہ بچ سکے گا؟ کیا وہ جو کبھی قرآن کھول کر پڑھتا ہی نہیں؟ یا وہ طبقہ جس نے سوسائٹی کی روایات و رسومات کو اسلام سمجھ رکھا ہے ؟ یا وہ طبقہ جو مذہبی پیشواوں کے ہاتھوں جذباتی تقریروں کے ذریعے یرغمال ہے؟
اللہ کا شکر ادا کرو اور خود کو اس کے دین کا محافظ اور کمانڈو سمجھو۔ تم اتنے کمزور نہیں جتنا تم خود کو کمزور سمجھ لیتے ہو۔یہ سب شیطانی چالیں ہیں تمہارے قدم اکھاڑنے کے لیے اور اس کا ساتھی یعنی نفس تمہارے اندر موجود ہے۔ ہر لمحہ خود کو ہوشیار رکھو اس بلی کی طرح جو انتہائی محتاط اور چوکنا ہوجاتی ہے چوہا پکڑنے کے لیے اور ذرا سی بھی حرکت نہیں کرتی۔اس قدر تیزی اور حساسیت پیدا کرو اور شیطانی خیال کے آتے ہی جھٹک ڈالو اور فیصلہ سنادو کہ تم اس کی ایک نہیں ماننے والے کیونکہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو گے۔ یاد رکھو کہ شیطان صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس لیے جب بھی یہ خبیث حملہ کرنے کی سوچ کر آئے تم اپنے سامنے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھ دو اور خود پیچھے چھپ جاو ۔

Home | About