Home | Short Notes | Videos | Muslim Scholars | About | Contact

زنا کی لذت اور مسلسل نفسانی جنگ

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

انسان زنا کی طرف متوجہ رہتا ہے چونکہ اس کی لذت بہت ذیادہ ہوتی ہے۔ خواہ یہ لذت آنکھوں سے عورتوں کو دیکھنے کی ہی کیوں نہ ہو لیکن یہ دل پر براہ راست اثر پیدا کرتی ہے۔

اس وقت کی حرام لذت حلال لذت کے مقابلے پر بہت شدید اور ذیادہ ہوتی ہے اور اس میں شیطان مسلسل اثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

دل پر برے برے خیالات ڈالتا ہے۔ نت نئی پلاننگ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ گندے سے گندا کام کرنے پر ابھارتا ہے۔

انسان کو ذہنی غلام بناکر کئی کئی دن نہیں بلکہ کئی کئی سال برباد کرواتا ہے صرف ایک جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے۔

اسی لیے اللہ نے مردوں اور عورتوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔

یہ کھیل نظر سے شروع ہوتا ہے اور شرمگاہ پر ختم ہوتا ہے اور پھر ماسوائے شرمندگی اور ندامت کے کچھ نہیں ہوتا۔ انسان مایوسی میں چلاجاتا ہے اور پھر شیطان اسے بار بار اسی دلدل میں گھسیٹے رکھتا ہے کہ تیری کوئی توبہ نہیں ہوسکتی لہذا وہ بار بار یہی عمل کرتا رہتا ہے۔

اگر انسان توبہ کرتا بھی جائے تب بھی ابلیس باز نہیں آتا بلکہ اس پر حملے جاری رکھتا ہے کہ توبہ تڑوادے۔

اگر انسان توبہ اور گناہ کے درمیان پھنس جائے کہ گناہ کرے پھر توبہ کرے تو چند مرتبہ کے بعد اکثر لوگ اللہ سے شرمندگی کے سبب ہمت ہاردیتے ہیں کہ انہیں بار بار زنا جیسے کام کرکے توبہ سے شرم آتی ہے تو شیطان یہ خیال بھیجتا ہے جب ایک مرتبہ یہ گندہ کام چھوڑنے کا پکا ارادہ کروں گا تب پکی توبہ کروں گا اور شیطان انسان کو اس ارادے پر پکا ہونے نہیں دیتا اور نتیجے میں اس گناہ کی عادت رکتی ہی نہیں بلکہ پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔

کچھ لوگ جنگ نہیں ہارتے لیکن ہارجانے والے پھر یہ سوچ کر کہ اتنی گندگی میں چلے گئے تو اب کیا فائدہ۔ پھر وہ یہی کام کرتے چلے جاتے ہیں اور ابلیس انہیں ان کی اوقات بہت ہی معمولی بناکر دکھاتا ہے اور وہ اللہ سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔

Home | Short Notes | Videos | Muslim Scholars | About | Contact