سینٹر آف اسلام سائنس

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ گرفتار بلا - اپنے سائے میں ترقی جسے دیتا ہے خدا

رکاوٹیں کھڑی کرنے والے منافقین

تحریر: مسلم مین (www.CoislamScience.com)

Date: January 18, 2020

فیس بک گروپس میں اور پاکستانی بزنس انڈسٹری میں "نام" چمکانے والوں میں ایک چیز کمال کی ملی کہ یہ پبلک میں الگ اور میٹھا روپ دکھاتے ہیں لیکن ان کے اندر سانپ لوٹ جاتا ہے جب کوئی ان سے اختلاف رکھے یا ایسی بات کہے جو سچ ہو۔

میری کئی پوسٹیں اور کمنٹس کاروباری اور فری لانسنگ گروپس میں ڈیلیٹ ہونے کے بعد بغور جائزہ لینے پر واضح ہوا کہ بات جتنی مرضی سلجھی ہوئی ہو اگر وہ سچ اور حق کی تلوار ہو تب اسے سہنا منافقوں کے لیے تقریبا ناممکن ہے۔

یہ اپنے خوشامدیوں اور تعریفوں کے پجاریوں کے ماتحت ایسے غلام ہیں جو بظاہر ملنسار اور ٹھنڈے نظر آتے ہیں لیکن نفس کے بدترین نوکر ہیں بلکہ تکبر، انا اور حسد سے بھرپور ہیں۔

یہ سب میں اپنے کئی بار کے تجربات کرنے کے بعد لکھنے پر مجبور ہوا کیونکہ مجھے یہی رزلٹ ملتا رہا ہے ۔دوسروں کو خود سے کمتر محسوس کرواکر بزنس کی آڑ میں دولت گھسیٹنے والے اتنے مخلص نہیں ہوتے ۔جو وہ اپنی ویڈیوز میں کہتے تھے پبلک کے سامنے، پردے کے پیچھے اس کا مختلف روپ ہی دکھاتے ہوئے ملے۔

چونکہ یہ میرے ساتھ بہت زیادہ مرتبہ ہوا اس لیے احساس رہا کہ اس ملک کے ذہین اور ایماندار لوگوں کو کس طرح بلاک کرکے پیچھے دھکیلا جاتا ہے تاکہ پبلک میں منافقت دکھانے والے صرف اپنے لیے شہرت و دولت سمیٹتے رہیں۔

کروڑوں ذہین مسلم نوجوان وہ بات کرنے سے روکے جاتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں لیکن ہمت نہیں کرپاتے اور اگر ہمت کرلیں تو ان کی ٹانگیں گھسیٹنے والوں کی کمی نہیں۔

مجھے یہ بات بھی سمجھ آگئی کہ آخر کیوں کسی کو اپنے راستے سے ہٹایا جاتا ہے؟ اس لیے کہ اس کا سچ بولنا دو نمبر منافق انسانوں سے برداشت نہیں ہوتا اور ان کی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

اپنی اونچی شان اور اندھے چاپلوسی پیروکاروں کے سامنے یہ بات انہیں ہضم ہی نہیں ہوتی کہ کوئی انجان سا بندہ آکر ان کی تبلیغ و تعلیم سے ہٹ کر دوسرا آئنیہ دکھادے یا جب یہ عام لوگوں کو پیسہ کے بل پر ذلیل و خوار کررہے ہوں تو اگر کوئی ہمت کرے اور غریب و احساس کمتری کے شکار لوگوں کا مائنڈ سیٹ واپس درست کرنے والی بات کرنے کی جرات کرلے تو بس یہ اور ان کے ذہنی غلام فورا دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر یہ اوپر کے لوگ یا تو خود اسے راستے سے ہٹادیتے ہیں یا ان کے چمچے اور غلام اس انسان کا راستہ صاف کرنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔

میں نے اگر بار بار مار نہ کھائی ہوتی تو آج یہ تحریر نہ لکھتا۔ یہ بھی مشیت الہی ہی سمجھ سکتا ہوں کہ بہت ہی اہم سبق سیکھنے کو ملا ہے کہ اگر دنیاداروں کی چودھراہٹ پر یہ حال ہے تو مذہب جس پر صدیوں سے اللہ کے مقابلہ پر باطل خداوں کے نام پر مذہبی پیشواوں کی حکمرانی چل رہی ہے اور اربوں پیروکاروں کو بے وقوف بناکر ان کی دولٹ سمیٹی جارہی ہے اور ان کے دل و دماغ سے کھیلا جارہا ہے۔

 اگر کوئی مخلص انسان آکر لوگوں کے دماغ صاف کرنے کی کوشش کرے گا کہ باقی مذاہب غلط ہیں، یا دوسرے مذہبی پیشوا انسانوں کو باطل خداوں کے نام پر بے وقوف بنارہے ہیں تو یہ حرکت سیدھی سیدھی ٹکراو میں جائے گی۔

لہذا ایک بہتر حکمت عملی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی بھی مذہب کے خدا کو برا نہ کہا جائے، کسی اور مذہبی پیشوا یا پیروکار کی باتوں یا تعلیمات کے خلاف بھی کچھ نہ کہا جائے بلکہ صرف اپنا نظریہ پیش کرکے اسی کا پرچار مکمل اعتماد اور یقین سے کیا جائے۔

مثال کے طور پر اللہ کے وجود پر باتیں کی جائیں۔ اللہ کے کمالات بتائے جائیں۔ اللہ کی نشانیاں کھول کھول کر رکھ دی جائیں۔ اللہ پر وہ باتیں جرات سے کی جائیں جو لوگوں سے چھپائی جاتی ہیں ۔ اللہ کے بارے میں شک و شبہات میں گرفتار انسانوں کو اللہ کے وجود کے بارے میں واضح ثبوت کے ساتھ معلومات فراہم کردی جائیں۔

بظاہر آپ بہت ہی مطمئن اور آرام سے کھیلو اور اندر کی آگ ٹھنڈی نہ ہونے دو ابلیس کے خلاف۔کیونکہ اگر کسی کو برا بھلا کہا یا گالی گلوچ کی تب دوسروں کو اندازہ ہوجائے گا کہ آپ غصہ میں کام کررہے ہیں اور اسی بات کو بہانہ بناکر آپ کے خلاف مذہبی نفرت یا دہشت گرد ہونے کا لیبل بھی لگایا جاسکتا ہے  تاکہ آپ کو راستہ سے ہٹایا جاسکے ۔اور باقی آپ جانتے ہی  ہیں کہ مذہب کے نام پر کتنی آسانی سے لوگ جذباتی اور اندھے پاگل بن جاتے ہیں اور دوسرے کو ختم کردیتے ہیں اپنے مذہبی پیشواوں کے اشاروں پر۔


Rightful Religion | God of Nature | Prophet of Nature
Copyright © 2017 - 2021 All rights reserved.