Home | Short Notes | Videos | Muslim Scholars | About | Contact

رکاوٹیں کھڑی کرنے والے منافقین

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

فیس بک گروپس میں اور پاکستانی بزنس انڈسٹری میں "نام" چمکانے والوں میں ایک چیز کمال کی ملی کہ یہ پبلک میں الگ اور میٹھا روپ دکھاتے ہیں لیکن ان کے اندر سانپ لوٹ جاتا ہے جب کوئی ان سے اختلاف رکھے یا ایسی بات کہے جو سچ ہو۔
میری کئی پوسٹیں اور کمنٹس ڈیلیٹ ہونے کے بعد بغور جائزہ لینے پر واضح ہوا کہ بات جتنی مرضی سلجھی ہوئی ہو اگر وہ سچ اور حق کی تلوار ہو تب اسے سہنا منافقوں کے لیے تقریبا ناممکن ہے۔
یہ اپنے خوشامدیوں اور تعریفوں کے پجاریوں کے ماتحت ایسے غلام ہیں جو بظاہر ملنسار اور ٹھنڈے نظر آتے ہیں لیکن شہرت و نفس کے بدترین نوکر ہیں بلکہ تکبر، انا اور حسد سے بھرپور ہیں۔
یہ سب میں اپنے کئی بار کے تجربات کرنے کے بعد لکھنے پر مجبور ہوا کیونکہ مجھے یہی رزلٹ ملتا رہا ہے کہ اگر دوسروں کو کمتر محسوس کرواکر بزنس کی آڑ میں دولت گھسیٹنے والے اتنے ہی مخلص ہوتے تو جو اپنی ویڈیوز میں کہتے تھے پبلک کے سامنے، پردے کے پیچھے اس کا مختلف روپ ہی دکھاتے ہوئے ملے۔
چونکہ یہ میرے ساتھ بہت ہوا اس لیے احساس رہا کہ اس ملک کے ذہین اور ایماندار لوگوں کو کس طرح بلاک کرکے پیچھے دھکیلا جاتا ہے تاکہ پبلک میں منافقت دکھانے والے صرف شہرت و دولت سمیٹتے رہیں۔ اور کس طرح کروڑوں ذہین مسلم نوجوان وہ بات کرنے سے روکے جاتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں لیکن ہمت نہیں کرپاتے۔
اور مجھے یہ بات بھی سمجھ آگئی کہ آخر کیوں کسی کو راستے سے ہٹایا جاتا ہے؟ اس لیے کہ اس کا سچ بولنا ان دو کوڑی کے منافق انسانوں سے برداشت نہیں ہوتا اور ان کی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اپنی اونچی شان اور اندھے چاپلوس پیروکاروں کے سامنے یہ بات انہیں ہضم ہی نہیں ہوتی کہ کوئی انجان سا بندہ آکر ان کی تبلیغ و تعلیم سے ہٹ کر دوسرا آئنیہ دکھادے یا جب یہ عام لوگوں کو پیسہ کے بل پر ذلیل و خوار اوقات محسوس کروارہے ہوں تو کوئی آکر ان غریب و احساس کمتری کے شکار لوگوں کا مائنڈ سیٹ واپس درست کرنے والی بات کرنے کی جرات کرسکے۔
اگر کوئی ایسا کردے تو یہ اوپر کے لوگ یا تو خود اسے راستے سے ہٹادیتے ہیں یا ان کے چمچے اور غلام اس انسان کا راستہ صاف کرنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔
میں نے اگر بار بار مار نہ کھائی ہوتی تو آج یہ تحریر نہ لکھتا۔ یہ بھی مشیت الہی ہی سمجھ سکتا ہوں کہ بہت ہی اہم سبق سیکھنے کو ملا ہے کہ اگر دنیاداروں کی چودھراہٹ پر یہ حال ہے تو مذہب جس پر صدیوں سے خداوں کے نام پر مذہبی پیشواوں کی حکمرانی چل رہی ہے اور اربوں پیروکاروں کو بے وقوف بناکر دولٹ سمیٹی جارہی ہے اور ان کے دل و دماغ سے کھیلا جارہا ہے۔۔ اگر کوئی آکر لوگوں کے دماغ صاف کرنے کی کوشش کرے گا کہ باقی مذاہب غلط ہیں، یا دوسرے مذہبی پیشوا بے وقوف بنارہے ہیں تو یہ حرکت سیدھی سیدھی ٹکراو میں جائے گی۔
بہتر حکمت یہی ہوسکتی ہے کہ کسی بھی مذہب کے خدا کو برا نہ کہا جائے، کسی اور مذہبی پیشوا یا پیروکار کی باتوں یا تعلیمات کے خلاف بھی کچھ نہ کہا جائے۔
بلکہ صرف اپنا نظریہ پیش کرکے اسی کا پرچار مکمل اعتماد اور یقین سے کیا جائے۔ اللہ پر باتیں کی جائیں۔ اللہ کے کمالات بتائے جائیں۔ اللہ کی نشانیاں کھول کھول کر رکھ دی جائیں۔ اللہ پر وہ باتیں جرات سے کی جائیں جو لوگوں سے چھپائی جاتی ہیں یا شک و شبہات میں گرفتار انسانوں کو خدا کے بارے میں واضح ثبوت کے ساتھ معلومات فراہم کردی جائیں۔
بظاہر آپ بہت ہی مطمئن اور آرام سے کھیلو اور اندر کی آگ ٹھنڈی نہ ہونے دو ابلیس کے خلاف۔
کیونکہ اگر کسی کو برا بھلا کہا یا گالی گلوچ کی تب دوسروں کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ غصہ میں کام کررہا ہے اور اسی کو بہانہ بناکر مذہبی نفرت یا دہشت گردی کا لیبل لگایا جاسکتا ہے راستہ سے ہٹانے کے لیے۔
اور باقی آپ جانتے ہی ہو کہ مذہب کے نام پر کتنی آسانی سے لوگ جذباتی اور اندھے پاگل بن جاتے ہیں اور دوسرے کو ختم کردیتے ہیں۔

Home | Short Notes | Videos | Muslim Scholars | About | Contact