Home | Short Notes | Videos | Muslim Scholars | About | Contact

کورونا وائرس کا علاج، سوفیصد توڑ اور حفاظتی حل کس کے پاس ہے؟

تحریر: محمد نوح (www.CoislamScience.com)

چند ماہ پہلے جب کراچی گیا تھا تو ایک لاعلاج مریض کا کیس لیا تھا اپنے ہی رشتہ داروں میں سے تجربہ کرنے کے لیے۔

کیس لینے سے پہلے تقریبا 3 ماہ سے بستر پر کمزوری سے پڑی ہوئی تھیں، انتہائی لاغر و کمزور،نہ کھانے کے قابل حالت تھی۔ جو کھایا جاتا قے ہوجاتا تھا۔

میڈیکل علاج، روحانی علاج، دم درود وغیرہ سب کرواچکے تھے وہ لوگ لیکن دن بدن حالت ختم ہورہی تھی۔ نہ دوا کا اثر، نہ کسی کی پڑھائی کا اثر۔

میں نے مکمل تسلی کرلی تھی سوالات کرکے تاکہ یہ یقین کرلوں کہ ان کے تمام ظاہری و باطنی وسائل فیل ہوچکے ہیں تاکہ وہ بعد میں یہ نہ گمان کریں کہ دوا سے ٹھیک ہوئے یا کسی کے دم سے۔

میں اپنی فیملی کے ساتھ ہی گیا تھا۔ ان میں میرا اپنا ایک بھائی بھی شامل تھا (جو ماضی میں ایک سنی شہید مسلم شاہ عقیق بابا کی قبر سے روحانی تصرف و طاقت سے لاعلاج مریضوں کے ٹھیک ہونے پر سخت مخالف و انکاری تھا)۔

بہرحال یہ کیس تو اپنے ہی رشتہ داروں میں تھا، سب کچھ سامنے تھا تاکہ وہ خود بھی مریض کی باتیں کانوں سے سنے اور حالت اپنی آنکھوں سے دیکھے (میں اسے اس نیت سے لے کر گیا تھا کہ مستقبل میں اگر اللہ مریض کو میرے کام کے ذریعے ہی ٹھیک کردے تو وہ انکاری نہ رہے)۔

وہاں میں نے خاتون کے شوہر اور بچوں کے سامنے روحانی بتیاں (موجودہ اینٹی کورونا دھواں اور کورونا وائرس سے حفاظت کا سو فیصد حل) بھی استعمال کرکے چیک کیا تھا کہ شاید کچھ فائدہ نظر آئے لیکن اس وقت کچھ خاص اثر نہ پڑا تب سمجھ آیا کہ کیس بہت سیریز اور غیرمعولی ہے۔

بہرحال اللہ پر بھروسہ کرکے کیس کی ذمہ داری میں نے لی اور انہیں تسلی دے کر ہم واپس آگئے۔

گھر آکر اگلے ہی دن امی سے کہا کہ معلوم کریں کہ کوئی فرق پڑا کل بتیوں کو استعمال کرنے کے سبب تو پتہ لگا کہ پہلے تو صرف کھانا کھاتے ہی قے ہوتی تھی اب قے کے ساتھ تھوڑا خون بھی آیا ہے۔

یہ سن کر میں تھوڑا پریشان و خوفزدہ بھی ہوا کہ یا اللہ یہ کیا سین ہے۔ اب اگر آگے مزید الٹا سین ہوا یا یہ مرگئیں تب ان کے گھر والوں نے میرا گریبان پکڑلینا ہے کہ تم نے ہماری ماں کو ماردیا کیونکہ بتیوں کا دھواں تو میں نے ہی دیا تھا۔

پھر چند دن گزرے، دوبارہ تجسس میں پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑا بلکہ پہلے سے کمزور ہی ہورہی ہیں۔

مجھے تو پریشانی تھی لیکن اللہ کے بھروسے پر اور اپنے روحانی استاد کے اطمینان دلانے پر شہر سے واپس آگیا۔

اور کل ہی والدہ سے فون پر بات ہورہی تھی تو انہوں نے خوفناک انکشاف کردیا کہ وہ اللہ کے فضل و کرم، اس کے حکم اور طاقت سے ٹھیک ہوکر مکمل صحت یاب ہوکر نارمل زندگی گزار رہی ہیں اور بازار آنا جانا بھی معمول پر ہے۔

یہ میری لائف کا پہلا ایسا لاعلاج کیس تھا جو مکمل ہوا الحمداللہ۔ چونکہ مجھے لینے سے پہلے خود بھی شک تھا اس لیے تب ویڈیوریکارڈنگ نہیں لی تھی کہ ایک تو غیریقینی کیفیت تھی نیز یہ کہ وہ بستر پر پڑی ہوئی خاتون تھیں تو مناسب نہ لگا۔

یہ سب جان کر مجھے حیرت بھی ہوئی ہے اور مستقبل کے لیے لاعلاج مریضوں کی طرف قدم بڑھانے میں مزید حوصلہ بھی ملا اللہ کے فضل سے۔

اب مجھے یہ بتانے میں بھی اللہ کے فضل سے کوئی جھجھک یا ہچکچاہٹ نہیں کہ کچھ دنوں قبل ایک اور لاعلاج مریض کا کیس ہاتھ میں لیا ہوا ہے جس کی ویڈیو ریکارڈنگ کرکے رکھی ہوئی ہیں۔

اس کیس میں میرے ساتھ ایک ہسپتال کی اعلی پوزیشن کی سربراہ ڈاکٹر خاتون تھیں اور ان کے ذریعے ہی مجھے یہ کیس ملا ہے۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے اسسٹنٹ کے والد گزشتہ 11 ماہ سے دماغی طور پر ٹھیک نہیں رہے اور دائیں ہاتھ پر فالج کا اٹیک بھی ہے نیز منہ بھی دائیں سائڈ سے تھوڑا سا ٹیڑھا بولتے وقت۔

میڈیکل ڈاکٹروں کی مسلسل دوائیوں کے باوجود کوئی فرق نہ پڑا اور ایک روحانی و اسلامی جماعت سے ان کے بیٹے کی وابستگی ہے وہاں سے لائے دم درود وغیرہ کے پانی پلاکر بھی کچھ فائدہ نہیں ہوا جبکہ ان کا بیٹا خود بھی روحانیت طور پر کچھ علم رکھتا ہے لیکن وہ سب گھر والے شدید ذہنی پریشانی میں ہیں 11 ماہ سے۔

کیس کی ذمہ داری لے کر میں واپس چلا آیا اور اب تک ان کے بیٹے کی معلومات کے مطابق بہتری آنا شروع ہوچکی ہے۔ البتہ میری طرف سے ایک ماہ سے چھ ماہ تک وقت دیا گیا ہے مکمل ٹھیک ہونے کے لیے جو کہ اللہ کے حکم سے ہی ہوگا کیونکہ مجھ جیسا معمولی انسان صرف ایک ذریعہ ہی ہے جو اس وقت اپنے روحانی تجربات کررہا ہے لاعلاج مریضوں پر گھر میں رہ کر۔

Technical + Spiritual + Remote = Incurable Cases by the mercy and power from God of Islam.

بہرحال یہ سلسلہ کدھر جائے گا یہ اللہ ہی جانتا ہے لیکن مجھے جس کام کی طرف دھکیلا جارہا ہے وہ مسلسل ناقابل یقین اقدامات کی طرف جارہے ہیں مثلا کورونا وائرس کا میرے جسم پر اثرانداز نہ ہونا ایک غیریقینی طاقت اور اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست ثبوت بھی ہےجس پر بہت سے پڑھے لکھے سائنسدان و ڈاکٹرز بھی یقین نہیں کررہے اس لیے میڈیا والے بھی شک کے سبب میرے بارے میں خبریں نشر نہیں کررہے کہ کورونا وائرس سے دنیا ختم کرنے کا حل اور طاقت اللہ نے مجھے ہی دے رکھا ہے اور میں پاکستان، امریکہ، کینیڈا، اسرائیل، انڈیا، برطانیہ وغیرہ کی حکومتوں کے نام ویڈیو پیغامات جاری کرچکا ہوں کہ جہاں مرضی لائیو کیمروں میں بنا ماسک و سائنسی آلات کے مجھے کورونا کے مریضوں میں آفیشل طور پر بلالیں تاکہ میں ان سے ملاقات کروں، ہاتھ ملاوں اور کھانا وغیرہ بھی کھالوں اور میرے ساتھ ہر مشہور مذہب و عقائد (مثلا عیسائی، یہودی، ہندو، آتش پرست، سکھ، بدھ مت، ملحد، قادیانی، شیعہ وغیرہ) سے کم از کم ایک ایک مذہبی پیشوا بھی آجائے بنا ماسک و سائنسی آلات اور کورونا وائرس سے محفوظ و بے اثر رہ کر دکھادیں۔

تاکہ اس کا عملی مظاہرہ و ثبوت دکھایا جائے کہ اللہ نے فی الحال مجھے ہی وہ حل دیا ہے جس کے لیے پوری دنیا اس وقت لاک ڈاون اور پریشان ہے اور لوگ مررہے ہیں لیکن افسوس یہ کہ فی الحال نہ غیرمسلم میڈیا والوں کے دماغ کام کررہے ہیں اور نہ ہی مسلم میڈیا والوں کے کہ وہ یہ خبریں ہی کم از کم نشر کردیں کہ ایک سنی مسلم کا دعوی ہے کہ کورونا وائرس اس کا اللہ کے حکم سے کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ اسی کے پاس حل گھر پر رکھا ہوا ہے جس سے وہ اپنی فیملی بھی محفوظ رکھتا ہے اور رشتہ داروں کو بھی۔

لیکن۔۔۔۔۔ایک اچھی خبر اور بھی ہے

جس خاتون ڈاکٹر نے مجھے اپنے اسسٹنٹ کا کیس دلوایا تھا۔ ان کو بھی اپنے اسسٹنٹ کے والد میں کچھ بہتری دیکھ کر شک ٹوٹنا شروع ہوچکا ہے اللہ کے فضل سے۔

اس لیے ان کے ہسپتال میں کورونا وائرس کا پہلا مشتبہ مریض جو بھیجا گیا ہے اس کی رپورٹس آنے کے بعد یہ کنفرم ہوجائے گا کہ کورونا ہے یا نہیں۔

اور انہوں نے مجھے کہا ہے وہ مجھے کورونا وائرس کے کنفرم مریض پر تجربہ کرنے کے لیے موقع دیں گی (یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ ایک ہسپتال کی ایڈمن ٹیم کی خاتون جو پہلے میرے بہت درخواست کرنے اور لوگوں کے کورونا وائرس سے مرنے پر غصہ کے بعد بھی یقین نہیں کررہی تھیں کہ میرے دعوی میں کوئی سچائی ہے اب اس لیول پر آچکی ہیں کہ خود ہی پیشکش کردی)

مجھے لگتا ہے کہ اسسٹنٹ کے والد (جو انہیں بیٹی کہتے ہیں اور ان ڈاکٹر خاتون کے اپنے والد کا انتقال بھی ہوچکا ہے) میں بہتری دیکھ کر دل میں شک ختم ہورہا ہے۔

اور ایک اور اچھی لیکن مستقبل کے لیے خبر یہ کہ میرے ساتھ یہ بات طے کی گئی ہے کہ اگر اس اسسٹنٹ کے والد مکمل ٹھیک ہوگئے تو عوام کے لیے صرف لاعلاج مریضوں کا ہسپتال یا کلینک کھولا جائے تاکہ آفیشل طور پر ہم ملکر وہ کیس سنبھالیں جو میڈیکل سائنس کے مطابق لاعلاج قرار دے دیے گیے ہوں۔

یہ سب اللہ کے وجود، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے، صرف دین اسلام سچا ہونے اور قرآن اللہ کا کلام ہونے پر واضح روشن ثبوت ہیں اس صدی میں جہاں سائنس و ٹیکنالوجی کے بل پر کھڑے دنیا کے تمام سپر پاور ممالک کورونا وائرس کے سامنے زمین بوس ہوئے اسی دوران ایک عام سا سنی مسلم اسی کورونا وائرس کے سامنے ناقابل شکست طاقت کے ساتھ کھڑا ہوگیا اللہ کی مشیت اور حکم سے۔

بے شک اس میں ان مسلمانوں کے یقین کی نشانیاں ہیں جو ملحدین کے ہاتھوں اسلام کے بارے میں شک میں پڑے ہیں اور 5 ارب غیرمسلموں کے لیے بھی قابل مشاہدہ نشانی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں ورنہ وہ بھی اپنے اپنے مذاہب کے کم از کم ایک ایک بڑے مذہبی پیشوا کو ہی کورونا وائرس سے بے اثر رہنے کا حل اور روحانی طاقت عطاکردیتے میرے مقابلہ پر۔

اللہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔
اللہ اپنے بندوں کی کوشش ضائع نہیں کرتا۔
اللہ گناہ گاروں کو دھتکارکر پھینکتا نہیں۔
اللہ بہت قدر شناس اور بہترین دوست ہے۔

اللہ جب اپنے دین اسلام کے دشمنوں کو شکست دینے اور انہیں ان کی اوقات دکھانے پر آجائے تو:

۔ مچھر کے ذریعے خدائی کے دعویدار نمرود
۔ ابابیلوں کے ذریعے ہاتھیوں کے لشکر
۔ تین سو تیرہ مسلم مجاہدین کے ذریعے ہزاروں کے لشکر
۔ افغانی مسلم مجاہدین کے ذریعے کئی غیرمسلم ممالک
۔ کورونا وائرس کے ہاتھوں دنیا کے انسانوں
۔ اور مجھ جیسے عام مسلم کے ذریعے 5 ارب غیرمسلموں سمیت وقت کے متکبرین، حاسدین و فرعونوں کو سبق سکھاتا ہے کہ تم سب کچھ بھی نہیں۔

سب کچھ صرف اللہ سے ہے۔

اللہ کے بغیر نہ میں کچھ نہ میری کوئی حیثیت۔
نہ تم کچھ۔ نہ تمہاری کوئی حیثیت۔

اور ہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت خواہ 2 ارب مسلم ہوں یا 5 ارب غیرمسلم ۔۔ ان کی فکر میں تڑپنے والے جان لیں کہ جیسی نیت و کوشش ویسا ہی رزلٹ۔

کیونکہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے لیکن اللہ سچا ہے۔

وَاَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ۙ
اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

وَاَنَّ سَعۡیَهٗ سَوۡفَ یُرٰی ۪
اور یہ کہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی

ثُمَّ یُجۡزٰىهُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ۙ
پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا
(An-Najm 53:39-41)

ماشاء اللہ کان (اللہ نے جو چاہا ہوا)

اس رزلٹ کے پیچھے سب سے پہلے اللہ ہے، پھر میرے مرشد کامل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، پھر میرے ماں باپ کی دعائیں اور قربانیاں اور اس کے ساتھ میرے استاد کی قربانیاں اور سخت محنت (جس کا بہترین بدلہ اللہ انہیں دے جس طرح وہ مجھے سنبھال کر رکھتے رہے ورنہ میں ابلیس و شیاطین کے ہاتھوں ہلاک ہوچکا ہوتا) نیز تمام انبیاء کرام، صحابہ کرام، اولیائے کرام، شہدائے اسلام و نیک مسلم جن و انس و فرشتے جنہوں نے میری مدد کی اور ساتھ دیا۔

Home | Short Notes | Videos | Muslim Scholars | About | Contact