سینٹر آف اسلام سائنس

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ گرفتار بلا - اپنے سائے میں ترقی جسے دیتا ہے خدا

بچوں کے ساتھ پڑھے لکھے جاہل

تحریر: مسلم مین (www.CoislamScience.com)

اتنا پڑھ لکھ کر بھی کیا فائدہ جب انسان خود کو مسلمان بھی کہے، تعلیم یافتہ بھی کہے، اپنے عزیز و اقارب میں خود کو سمجھدار اور باشعور بھی سمجھے لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پڑھائی کے دوران ظالم اور جابر بن کر ان پر چیخ چلاکر اپنے اندر کی فرسٹیشن اور بھڑاس نکالے؟

میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ پڑھی لکھی  عورتیں جو باہر کی دنیا میں ڈاکٹر، ٹیچر یا دیگر شعبہ جات کی ماہر ہوتی ہیں لیکن ان کا اپنے ذاتی چھوٹے بچوں کے ساتھ اسقدر گھٹیا سلوک ہوتا ہے خصوصا پڑھانے کے دوران جیسے یہ بچے اللہ نے انہیں ظلم کرنے کے لیے مفت میں بخش دیے ہیں کہ ان کی شخصیت کا جنازہ نکال دو ذہنی طور پر خوفزدہ اور مفلوج کرکے۔

عموما میرا یہی مشاہدہ ہے کہ بچے پڑھ رہے ہوں اور اسکول کا کام کررہے ہوں تو ان کی تعریف نہیں کی جاتی لیکن اگر وہ بچہ ایک غلطی یا چند غلطیاں کرجائےتو اس قدر طنز و تنقید، جارحیت اور تھپڑ مارے جاتے ہیں کہ وہ بچہ ڈرا سہما رہ کر کام کرتا ہے۔

مزید یہ کہ اس قدر بدتمیزی اور جہالت کے ساتھ اپنے بچوں سے باتیں کرتی ہیں تو، تکار کرکے کہ اس قسم کی تعلیم یافتہ عورتوں اور غیرتعلیم یافتہ عورتوں میں کوئی فرق ہی نظر نہ آئے۔

اگر ایسے ہی بچوں کو پڑھانا ہے تو کیا پڑھایا جارہا ہے؟

کتاب کے رٹے اور عملی زندگی میں جاہلانہ رویے؟

کس قدر بے شعور اور جاہل ہوچکے ہیں ہم لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں۔

نہ ہمارے ہاتھ سے کوئی محفوظ اور نہ ہماری زبان سے کوئی محفوظ۔

Date: September 06, 2020


Rightful Religion | God of Nature
Copyright © 2017 - 2020 All rights reserved.