سینٹر آف اسلام سائنس

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ گرفتار بلا - اپنے سائے میں ترقی جسے دیتا ہے خدا

کورونا وائرس مضمون اردو

تحریر: مسلم مین (www.CoislamScience.com)

Date: August 24, 2021

سنہ ۲۰۲۰ کے بعد سے دنیا بھر کے انسان کورونا وائرس کے سبب شدید بے بسی کا شکار ہیں اور نہ صرف انسان بلکہ بڑے بڑے سائنسدان بھی اس وائرس کے سامنے مقابلہ کرنے سے بے بس ہوچکے ہیں۔

حالانکہ دنیا بھر میں سنہ ۲۰۲۱ کے دوران اب تک مختلف ویکسین بنائی جاچکی ہیں لیکن یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ کچھ بھی کرلیا جائے اللہ کی مدد کے بغیر دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان ، مذہبی یا روحانی پیشوا اس وائرس کو ہمیشہ کے لیے ختم بھی نہیں کرسکتا اور اسے دنیا سے روک بھی نہیں سکے گا۔

اس وائرس کے حوالے سے بہت سے دانشوروں، فلسفیوں، سائنسدانوں، ڈاکٹرز، ماہرین اور دیگر دنیا کے انسانوں نے جتنے بھی بلند بانگ دعوے کیے تھے وہ اللہ واحد القہار نے زمین بوس کرکے سب کو جھوٹا اور غلط ثابت کردیا۔

اکیسویں صدی میں اپنے آپ کو جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے کمال کی انتہاوں پر سمجھنے والوں کے علوم و فنون کی اوقات اور حیثیت کیا تھی؟ یہ اللہ واحد القہار نے کھول کر سامنے رکھ دی۔

جبکہ دوسری جانب پاکستان ملک کے ایک سنی مسلم مین شہری کے پاس اللہ کے حکم اور طاقت سے ہمیشہ کے لیے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کی معجزاتی طاقت موجود ہے۔

یہ  اس بات پر کھلا پریکٹیکل ثبوت ہے کہ اللہ جسے چاہے جو چاہے عطا کرسکتا ہے اور بے شک کورونا وائرس کا خالق بھی اللہ ہی ہے اور مسلم مین کا خالق اور اسے کورونا وائرس کے ہاتھوں موت سے حفاظت کا تحفہ دینے والا بھی اللہ واحد القہار ہی ہے۔

 

البتہ یہ بات دنیا کے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ مسلم مین کو ہمیشہ کے لیے اللہ کے حکم سے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کی معجزاتی طاقت کیسے حاصل ہوگئی جبکہ اکیسویں صدی میں روئے زمین کے کسی غیرمسلم کے پاس یہ معجزاتی طاقت نہیں اور نہ ہی ننانوے فیصد مسلمانوں کے پاس یہ معجزاتی طاقت ہے کہ وہ دعوی کرسکیں کہ ہمیشہ کے لیے کورونا کے ہاتھوں موت سے محفوظ رہ سکیں گے، یہ دعوی اس وقت دنیا میں عوامی سطح پر بذریعہ سوشل میڈیا اور اشتہارات اللہ واحد القہار کے خاص فضل و کرم سے صرف لیجنڈ آف اللہ کا ہے  جو اس سے پہلے مسلم مین فار کورونا کے طور پر عوام کے سامنے اللہ کی مشیت سے نمودار ہوا تھا سنہ ۲۰۲۰ کے سال تاکہ لوگوں کی جان کورونا وائرس کے ہاتھوں مرنے سے بچانے کی کوشش کرسکے لیکن تب مسلم مین کے پاس ایسی کوئی معجزاتی طاقت موجود نہیں تھی۔

اس سے پہلے وہ اپنے روحانی استاد کے ذریعہ حاصل روحانی بتیوں کے ساتھ عوام کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے حل پیش کرتا رہا اور بہت سےوسائل و ذرائع کے ذریعہ کوشش کرتا رہا کہ اس سے مدد حاصل کرلیں لیکن اکثریت نے جھٹلایا، مذاق تماشہ کیا، طنز و تنقید کے تیر چلائے، عوام تو عوام، پڑھے لکھے اور میڈیا سے تعلق رکھنے والوں نے بھی نظرانداز ہی کیا۔

مسلم مین کوششیں ہی کرتا رہا اور جھٹلایا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے ایک دن نیچر کی مخلوق گھر پر بھیجی گئی جس پر اللہ کی مشیت اور فضل سے کام شروع کیا گیا روحانی بتیوں کے ذریعہ جبکہ وہ اڑنے سے محروم پتنگا تھا جو سائنس کے مطابق دوبارہ اڑ نہیں سکتا تھا یعنی ناممکن تھا۔

اس پتنگے کے کیس کے دوران اللہ واحد القہار نے اپنی طاقت اور قدرت کا عظیم الشان مظاہرہ کیا اور آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے پتنگا دوبارہ مرمت ہوکر اللہ کے حکم سے اڑنے کے قابل ہوگیا  جو کہ ایک واضح کھلا معجزہ تھا اور اس کے پریکٹکل ثبوت بھی موجودہیں۔

اس واقعہ کے بعد کورونا وائرس کے علاج کے لیے روحانی بتیوں کو عوام کے لیے اللہ کی طرف غیبی ہدایت کے مطابق بیچنے کے لیے بند کردیا گیا۔

اسی واقعہ کے بعد مسلم مین کو کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کی طاقت اللہ کے حکم سے حاصل ہوئی ایک ولی اللہ کی دعاوں کے ذریعہ اور وہ بن گیا مسلم مین فار کورونا جس کا آفیشل اعلان سوشل میڈیا پر بھی کیا گیا۔

لیکن مسلم مین فار کورونا بن جانے کے بعد بھی اس نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور بہت کوشش کرتا رہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ یا آف لائن دنیا میں بذریعہ فون یا براہ راست ملاقاتیں کرکے کوئی بات بن سکے لیکن تجربات کے مطابق صرف انداز کیا جانے کا رزلٹ مل رہا تھا۔

لیکن اللہ کے علم اورنظروں میں انسانوں کی حرکتیں موجود تھیں لہذا اس نے مسلم مین فار کورونا کو لیجنڈ آف اللہ کے روپ میں تبدیل کردیا اور مزید روحانی طاقتیں اور انعامات عطا کردیے جس کے لیے وہ ہمیشہ اللہ کا شکر گزار رہے گا اللہ کے فضل و کرم سے البتہ دنیا کے انسان سنہ ۲۰۲۰ میں شدید نقصان اٹھاکر دیکھ لیے کہ لاکھوں سے زائد انسان کرونا کے ہاتھوں قبروں میں چلے گئے۔

پھر سنہ ۲۰۲۱ میں کورونا ڈیلٹا کے ہاتھوں مزید نقصانات اٹھاکر لاشیں اٹھانا پڑگئیں خصوصا انڈیا میں جس طرح سے لاشوں کا انبار لگا تھا اس عجیب و غریب منظر تھا اللہ کے حکم سے لیکن تب بھی لیجنڈ نے انڈیا  میں دہلی کے چیف منسٹر کے نام ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر جاری کیا تھا مدد کے لیے

بہرحال اس کے بعد بہت کچھ ہوتا رہا لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ہاتھوں پاکستان میں ڈیلٹا نے تباہی پھیلا رکھی ہے اورخصوصا جولائی ۲۰۲۱ کے مہینے میں کورونا وائرس کی شرح ۳۰ فیصد سے ذائد کراس کرگئی تھی لیکن لیجنڈ آف اللہ کی انٹری ہوئی اور اللہ کے حکم سے کورونا کم ہوتے ہوئے ۱۵ فیصد تک کم ہوا جس پر سماء نیوز چینل کی کرن ناز کو بہت تجسس اور حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اسی لیے خصوصی طور پر کرن نا ز کے نام سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام بھی جاری کردیا گیا۔

 

مزے کی بات یہ رہی کہ ڈاکٹرز کو بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ لاک ڈاون کے سبب کورونا شرح کم ہونے میں کوئی خاص فرق کیوں نہیں پڑا؟

اب انہیں کیا معلوم تھا کہ اللہ کے فضل سے ڈاکٹر لیجنڈ ذیشان کورونا وائرس کا کیس اللہ کے سپرد کرچکا ہے کراچی شہر کے حوالے سے اور پھر اللہ نے جو چاہا وہ معجزہ کرکے عملی طور پر دکھادیا۔

 


Rightful Religion | God of Nature | Prophet of Nature
Copyright © 2017 - 2021 All rights reserved.