سینٹر آف اسلام سائنس

دشمنی سے نہیں ہوتا وہ گرفتار بلا - اپنے سائے میں ترقی جسے دیتا ہے خدا

آزادی رائے کے اظہار کے نام پر غیرمسلموں کی ڈرامہ بازی

تحریر: مسلم مین (www.CoislamScience.com)

Date: August 27, 2021

غیرمسلموں کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہاں ایک ہلچل سی موجود ہے اور جس کا جو دل چاہے وہ اپنی بات چیت دوسرے انسانوں کے ساتھ کرسکتا ہے لیکن کیا حقیقت ایسی ہی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ غیرمسلموں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ اپنی اجار ہ داری قائم کررکھی ہے اور یہ اسلام کے ایسے دشمن ہیں کہ جن کاموں سے دین اسلام کو حقیقی فائدہ پہنچتا ہے یا دین اسلام کی طاقت اور سچائی کا اظہار ہورہا ہوتا ہے اور ان کے خیالی خداوں کا وجود پاش پاش ہوتا نظر آئے یا ان کے باطل مذاہب کے خلاف بھرپور چوٹ پڑے تب یہ لو گ کیا کرتے ہیں؟

اس حوالے سے کچھ مثالیں اپنے تجربات کی بنیاد پر یہاں بتادیتا ہوں

- آپ کا سوشل میڈیا اکاونٹ بلاک کردیں گے

- آپ دین اسلام کے مجاہدین سے متعلق کچھ بات کریں تو آپ پر پابندی عائد کردیں گے

- آپ اللہ واحد القہار کی طاقت اور اس کے رزلٹ ان کے نیٹ ورکس میں کھلم کھلا پیش کریں گے تو یہ آپ کے اکاونٹ پر  مشکوک یا عجیب و غریب سرگرمی کا الزام لگاکر اکاونٹ پر سختیاں شروع کردیں گے

- آپ اگر خیالی خداوں یا باطل مذاہب کے پردے فاش کرنا شروع کریں گے تو یہ "نفرت" کے لفظ کی آڑ لے کر آپ کے پیغامات ڈیلیٹ کردیں گے

- اگر آپ مسلمانوں کے فروعی اور لایعنی مسائل میں الجھے بغیر اپنے مقصد پر کام رکھیں گے تو اکثر مسلم بھی آپ کے راستے کی دیوار بن کر طنز و تنقید اور راستے بند کرنے کی کوشش کریں گے محض اپنے حسد کی بنا پر

یہ صرف چند مثالیں دی ہیں جو صرف یہ سمجھانے کے لیے ہیں کہ دین اسلام کا کوئی بھی مسلم یا مسلمہ اگر واقعی اللہ واحد القہار کے لیے سو فیصد مخلص ہوکر کام کرنا چاہتا/چاہتی ہے تو غیرمسلموں کے پلیٹ فارم کے ذریعہ یہ کام کرنا انتہائی مشکل اور سخت ذہنی جنگ کرنے کے مترادف ہے۔

کیونکہ آپ کو جگہ جگہ ایسا محسوس ہوگا گویا کہ آپ کے راستے بلاک کرکے آپ کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا ہے یا کوشش کی جارہی ہے کہ آپ کے پیغامات کسی بھی طرح عام عوام یعنی غیرمسلموں کی اکثریت تک نہ پہنچ سکیں اور اس کے لیے غیرمسلم سوشل میڈیا کی انتظامیہ اپنے جدید سائنسی آلات اور کمپیوٹر ڈیٹا کی مدد سے آپ کی شناخت ، آئی پی ایڈریس، لوکیشن اور دیگر جدید طریقہ کار کے ذریعہ آپ کو ٹریس کرکے رکھتی ہے ۔

بظاہر آپ کو اس بات کا علم نہیں ہوگا لیکن بیک گراونڈ میں آپ کے حوالے سے ڈیٹا ان کے پاس ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے آپ ان کے جس پلیٹ فارم پر جاکر بھی کوشش کریں گے تو ایسی ایسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا کہ آپ حیران ہوجائیں گے کہ آخر یہ سب آپ کے ساتھ ہی کیوں ہورہا ہے؟

اس لیے کہ آپ ایک خاص انسان نہ رہے جب آپ سو فیصد اخلاص کے ساتھ حق کی چوٹ باطل کے خلاف مارنے کی کوشش کریں گے تو یہ ابلیس اور اس کے لشکر کو ہرگز برداشت نہیں لہذا وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اپنے پیروکاروں کے ذریعہ آپ کے خلاف جو بھی ہوسکے وہ کر گزریں۔

جبکہ دوسری جانب آپ خود غور سے مشاہدہ کریں تو دیکھ لیں گے کہ ایسے مسلم جو دین اسلام کے ایسے مسائل میں الجھے ہیں جو آپس کے ہیں اور ان کا اسلام و کفر کے مابین مقابلہ سے تعلق نہیں، اور نہ ہی باطل خداوں کا وجود نیست و نابود کرنا ہو تو ایسے مسلمانوں کو وہ لوگ اتنا ذیادہ پریشان نہیں کرتے کیونکہ شیطان کو ایسے مسلمانوں سے کوئی خاص سروکار نہیں کہ یہ خود ہی آپس میں دست و گریباں ہیں۔

تیسری جانب آزادی رائے کے اظہار کے یہ چیمپئن بننے والے غیرمسلم ایسے انسانوں کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نہ صرف کھل کر کام کرنے دیتے ہیں بلکہ ان کے چینل پروموٹ بھی ہونے دیتے ہیں خصوصا یوٹیوب  ، جو دن رات کائنات کے بادشاہ یعنی دین اسلام کے اللہ واحد القہار، آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم ، قرآن اور مسلمانوں کے خلاف بکواسات جاری رکھتے ہیں۔

پاکستان میں یہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ انگریز بہت انصاف والے اور ملنسار لوگ ہیں  اور ان کے اخلاق بہت اچھے ہیں لیکن درحقیقت جہاں بات اسلام و کفر کی آجائے اور حق واضح ہووہاں ان کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔

اگر ایسا ہوتا تو مسلمانوں پر پابندیاں لگانا، مسلمانوں کے خلاف جنگیں کرنا، مسلمانوں کے ممالک کو تباہ کرنا، مسلمانوں کو ذہنی و معاشی طور پر خراب کرناوغیرہ میں یہ غیرمسلم شامل نہ ہوتے بلکہ آپ خود ہی یہ ریسرچ کرکے دیکھ لیں کہ دنیا کی چند بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان  کون لوگ ہیں  تو آپ کو حقیقت کا اندازہ ہوجائے گا۔

اور یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دنیا بھر میں جنگوں کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا سوداگر کون ہے اور یہ سب جنگی کاروبار کس بنیاد پر قائم ہے۔ یہ صرف مذہب کی جنگ ہے اور بہت سے خداوں کا وجود بنانے کی وجہ سے ان کے مذہبی پیشواوں اور پیروکاروں کے درمیان کئی سو صدیو ں سے جاری ہے۔

لہذا اب بات اتنی سی ہے کہ اگر آپ کھل کر دین اسلام کے لیے کوئی کام کرنا چاہتے ہیں آن لائن انٹرنیٹ کی دنیا میں تو آپ کو اپنی آمدنی پر دھیان رکھنا ہوگا، اور اس کے ذریعہ اپنی طاقت اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے دین اسلام کی خاطر اپنی ویب سائٹ، اپنی ایپ، اپنے پلیٹ فارم بناکر استعمال کرنا ضروری ہوگا ورنہ بصورت دیگر آپ کا کبھی یوٹیوب چینل ڈیلیٹ کردیا جائے گا، کبھی فیس بک اکاونٹ، کبھی کچھ تو کبھی کچھ۔

اگر اللہ چاہے تو کوئی بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن اللہ نے آ پ کو اس دنیا میں کامیابی کے لیے نہیں بھیجا بلکہ امتحان کے لیے بھیجا ہے اور وہ صرف آپ کو آزمارہا ہے مختلف مراحل اور واقعات سے گزار کر کہ آپ کس طرح کا عمل یا رد عمل کرتے ہیں جو آپ کی کوشش ہوگی اور انہیں کوششوں کے بدلے میں آپ کو آخرت کی زندگی میں انعامات ملیں گے۔

اگر آپ اپنی کوشش کا بدلہ اسی دنیا میں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو سوچنا چاہیے کہ کہیں آپ غلطی تو نہیں کررہے؟

 اور اگر آپ اللہ کے لیے کوشش کررہے ہیں تو پھر دنیا والوں سے بدلہ حاصل ہوجانے کی توقع چھوڑ دیں اور اپنی آزاد زندگی کے مالک بن کر، آزادی رائے یعنی حق کا اظہار اللہ کے سوا بغیر کسی کا خوف رکھے کریں اور لوگوں کے تبصرے، تنقید و تعریف اور صلہ سے خود کو بالاتر کرلیں، کیونکہ آپ کا کام بس بات پہنچادینا ہے

Convey Your Message

جب بات پہنچ گئی تو آپ کا کام ختم
اس کے بعد رزلٹ اللہ کی مرضی

مخلص ہوکر کام کرنا ہے تو پھر
جو کچھ ملنا ہے اللہ سے ملنا ہے

اللہ واحد القہار


Rightful Religion | God of Nature | Prophet of Nature
Copyright © 2017 - 2021 All rights reserved.